اسلام آباد (اے بی این نیوز) پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں دو ماہ کا ایک لاوارث بچہ بھی شامل تھا، جس کی لاش لینے کوئی نہیں آیا۔ نرسز نے جسے اپنی طرف سے علی کا نام دیا تھا، بالآخر ایدھی رضاکاروں نے اس کی نماز جنازہ ادا کرکے سپرد خاک کردیا۔
رپورٹ کے مطابق بچے کو پمز میں ’بے بی ایچ (H)‘ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔ پمز کی جانب سے جاری کی گئی جاں بحق بچوں کی فہرست میں بھی بچے کا ذکر ’بے بی آف حفصہ، ایم ایل سی کیس‘ کے نام سے کیا گیا تھا۔ چونکہ بچے کی والدہ کا نام حفصہ تھا، اس لیے ٹیگ پر ’بے بی ایچ‘ لکھا گیا۔

معلومات کے مطابق یہ بچہ اس سے قبل مادر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں زیر علاج تھا۔ نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بچہ 21 جون کو پیدا ہوا تھا اور اس کی والدہ 15 سالہ لڑکی تھی، جو ہسپتال میں اپنی شادی کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی اور بعد ازاں وہاں سے چلی گئی۔
اسی صورتحال کے باعث بچے کو میڈیکولیگل کیس (ایم ایل سی) قرار دیا گیا۔ قانون کے تحت لاوارث بچوں کی کسٹڈی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو دی جاتی ہے، جو ان کے قانونی نگراں ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’بے بی ایچ‘ کو پیدائش کے چند روز بعد پمز منتقل کردیا گیا تھا، جہاں وہ تقریباً دو ماہ تک زیر علاج رہا۔
عام طور پر لاوارث بچوں کو بے اولاد جوڑے قانونی طریقہ کار مکمل کرکے گود لے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ایک طویل قانونی عمل درکار ہوتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’بے بی ایچ‘ کے معاملے میں یہ عمل شروع نہیں ہوسکا تھا۔
پمز سانحے میں جاں بحق ہونے کے بعد بچے کی لاش لینے بھی کوئی نہیں آیا۔ بالآخر بے بی ایچ کی لاش ایدھی کے حوالے کردی گئی، جہاں رضاکاروں نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور اسے سپرد خاک کردیا۔
مزید پڑھیں:بجلی صارفین ہوشیار، بجلی کے بلوں میں اضافے کا فیصلہ















