دبئی (اے بی این نیوز) دبئی ایئرپورٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید بارڈر چیکنگ سسٹم کی آزمائش کامیابی سے شروع کر دی ہے جو صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کے ذریعے مسافروں کو کلیئر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس کیمرے ایک وقت میں 10 مسافروں کی شناخت کر سکتے ہیں۔ ہوائی اڈے کی خصوصی “ریڈ کارپٹ لین” کے ذریعے مسافر بغیر رکے، اپنا پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھا کر امیگریشن سے گزر سکتے ہیں۔
دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (جی ڈی آر ایف اے) کے مطابق اس سسٹم میں رجسٹرڈ مسافروں کو صرف اپنا چہرہ کھلا رکھنا ہوگا اور بائیو میٹرک کیمرے پر سبز روشنی کو دیکھنا ہوگا، جس کے بعد ان کی شناخت فوری طور پر مکمل ہوجاتی ہے۔
اس نظام کو ابتدائی طور پر ٹرمینل 3 پر فرسٹ اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے استعمال کیا گیا تھا، لیکن اب 2025 میں 528,000 سے زیادہ افراد نے “اسمارٹ کوریڈور” کا استعمال کرنے کے بعد اسے دوسرے آنے والے مسافروں تک پھیلایا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال 26 ملین سے زائد مسافروں نے دبئی کے سمارٹ گیٹس سے سفر کیا۔ متحدہ عرب امارات اور خلیجی شہری، رہائشی اور بائیو میٹرک پاسپورٹ کے ساتھ آمد پر ویزا والے مسافر خود بخود اس سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں، جبکہ 1.2 میٹر سے کم قد کے بچے اہل نہیں ہیں۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹیو پال گریفتھس کے مطابق، ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو تیز، آسان اور کم دخل اندازی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت مستقبل میں تمام مسافروں کے لیے متعارف کرائی جائے گی۔
مزید پڑھیں:بلوچستان سے افسوسناک خبر،سیشن جج سمیت دو افراد جان سے گئے















