ویب ڈیسک: کیلاش میرج بل کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے باقاعدہ منظور کر لیا، جس کے تحت کیلاش برادری میں شادی، رجسٹریشن، طلاق اور دیگر خاندانی معاملات کے لیے قانونی ضوابط متعین کر دیے گئے ہیں۔
بل کے مطابق کیلاش برادری میں شادی صرف فریقین کی باہمی رضامندی سے ہی معتبر ہوگی۔ اس کے علاوہ شادی کے لیے دونوں افراد کی ذہنی صحت درست ہونا، کم از کم عمر 18 سال ہونا اور ممنوعہ رشتوں سے اجتناب لازمی قرار دیا گیا ہے۔
قانون کے تحت کیلاش کمیونٹی میں فرسٹ کزن (چچا، تایا، ماموں یا خالہ زاد) کے درمیان شادی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح ہر شادی کی رجسٹریشن مقامی رجسٹرار کے ذریعے کرانا لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ تمام ریکارڈ سرکاری سطح پر محفوظ رکھا جا سکے۔
کیلاش میرج بل میں یہ بھی درج ہے کہ شادی، طلاق، خلع اور ازدواجی تعلق کے خاتمے سے متعلق تمام معاملات کیلاش برادری کی روایات کے مطابق انجام دیے جائیں گے، جبکہ ان کا باقاعدہ ریکارڈ متعلقہ سرکاری دفاتر میں محفوظ رکھا جائے گا۔
بل کے تحت شوہر کے انتقال کی صورت میں جائیداد سے متعلق حقوق بھی روایتی نظام کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ غلط معلومات فراہم کرنے، شادی کی رجسٹریشن نہ کرانے یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزا اور جرمانے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ کیلاش میرج بل 2026 رواں سال اپریل میں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کیا تھا، جسے اب ایوان نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کا مقصد کیلاش برادری کے خاندانی معاملات کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور ان کے روایتی نظام کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینا ہے۔















