اہم خبریں

اسلام آباد پولیس کے ٹک ٹاکر اہلکار قانون اور محکمہ دونوں کے لیے دردِ سر بن گئے

اسلام آباد(زمان مغل )اسلام آباد پولیس کے بعض اہلکاروں کی جانب سے سرکاری وردی میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز، تبصرے اور مبینہ طور پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تضحیک کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے حوالے سے شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پولیس اہلکاروں کو سرکاری وردی میں ٹک ٹاک، وی لاگنگ اور غیر سنجیدہ تبصروں کی اجازت حاصل ہے؟

ذرائع کے مطابق بعض پولیس اہلکار، جن میں عثمان اور شاہنواز بلوچ سمیت دیگر نام بھی سامنے آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر پولیس کی وردی میں مختلف نوعیت کا مواد شیئر کرتے ہیں۔ صارفین کا الزام ہے کہ بعض ویڈیوز میں دیگر افراد کے بارے میں تضحیک آمیز اور غیر مناسب تبصرے بھی کیے جاتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی وردی ایک سرکاری ذمہ داری اور قانون کی نمائندگی کی علامت ہے، اس لیے وردی میں سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے کسی فرد یا طبقے کی تضحیک سے محکمہ پولیس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر سرکاری ملازمین کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق محکمانہ ہدایات اور ماضی میں احکامات موجود ہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کرایا جا رہا؟

شہریوں کی جانب سے یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ وردی میں وی لاگنگ، ٹک ٹاک ویڈیوز یا سوشل میڈیا پر بطور مبینہ ‘تجزیہ کار’ سرگرمیوں کی اجازت کس سطح سے حاصل ہے اور ایسی سرگرمیوں کی محکمانہ نگرانی کون کرتا ہے؟

سوشل میڈیا صارفین نے آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر حقائق کی انکوائری کرائی جائے اور اگر کسی اہلکار نے محکمانہ ضابطوں یا پولیس کی ساکھ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی ہے تو قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو عوام کے ساتھ قانون کے مطابق اور باوقار رویہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی سرکاری منصب، وردی اور محکمہ پولیس کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر اسلام آباد پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ پولیس اہلکاروں کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
مزیدپڑھیں: دم درود کے نام پر لڑکی پر تشدد، ملزم کو 3 سال قید اور دیت کی سزا

متعلقہ خبریں