نئی دہلی (اے بی این نیوز) بھارت کی وزارت داخلہ نے ملکی شہریت کے قوانین میں ایک بڑی ترمیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے درخواست گزاروں کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرنے کے عمل میں اپنے پرانے یا موجودہ پاسپورٹ کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس نئی تبدیلی کا بنیادی مقصد کاغذی کارروائی کو آسان بنانا اور شہریت کی درخواست کے عمل میں شفافیت اور وضاحت لانا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے بنیادی شہریت کے قوانین سب سے پہلے 25 فروری 2009 کو جاری کیے گئے تھے اور ان میں آخری ترمیم 11 مارچ 2024 کو کی گئی تھی جس کے بعد اب اس نئے اصول پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
The Ministry of Home Affairs (MHA) has issued a notification announcing amendments to the Citizenship Rules, 2009, introducing new provisions related to passport disclosure for applicants from Pakistan, Afghanistan and Bangladesh. pic.twitter.com/rA8tHQVhnb
— ANI (@ANI) May 19, 2026
بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ تبدیلی کے تحت شہریت کے قوانین کے شیڈول ون سی میں ایک نئی شرط شامل کر دی گئی ہے۔
اس نئی شرط کے مطابق اب ہر درخواست گزار کے لیے یہ بتانا لازمی ہو گا کہ آیا ان کے پاس پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش کی حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ کوئی درست یا ختم شدہ پاسپورٹ ہے۔
ترمیم شدہ قانون کے تحت اب درخواست دہندگان کو یا تو حلف پر تصدیق کرنا ہوگی کہ ان کے پاس ایسا کوئی پاسپورٹ نہیں ہے، یا اگر ان کے پاس پاسپورٹ ہے تو انہیں اس کے بارے میں مکمل اور تفصیلی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
اس معلومات میں پاسپورٹ نمبر، جاری کرنے کی تاریخ، شہر کا نام یا جاری کرنے کی جگہ اور اس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ شامل ہے۔
نئے قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جن درخواست دہندگان کے پاس یہ پاسپورٹ ہیں انہیں ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست کی منظوری کے 15 دن کے اندر اپنے پاسپورٹ متعلقہ پوسٹل حکام یعنی محکمہ ڈاک کے پاس جمع کرانا ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد ان تینوں ممالک سے آنے والے افراد کی دستاویزات کی تصدیق کو بہتر بنانا اور شہریت دینے کے پورے عمل کو مزید واضح اور منظم بنانا ہے تاکہ کسی ابہام سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم کی زیر صدارت بلوچستان ایپکس کمیٹی کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع















