افغانستان میں حجاب مخالف احتجاج کے بعد مغربی شہر ہرات میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد خواتین اور لڑکیوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہرات کے علاقے جبرائیل میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب طالبان کے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکار مبینہ طور پر ان خواتین کو گرفتار کرنے پہنچے جو لازمی لباس کے ضوابط کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔ اس کے بعد شہریوں اور خواتین کی جانب سے احتجاج شروع ہوگیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرے کے دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ بعض مقامی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک شخص ہلاک بھی ہوا، تاہم طالبان حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔
ہرات پولیس کے ترجمان سید مسعود حسینی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع نے عوامی نظم و ضبط کو متاثر کیا اور حجاب کی مخالفت کے نام پر کشیدگی پیدا کی گئی۔ ان کے مطابق حجاب اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے اور اس کی پابندی ضروری ہے۔
کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایسی خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا جو پہلے ہی مقررہ لباس کے ضوابط پر عمل کر رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مسلح اہلکاروں کو مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ متعدد خواتین بھی احتجاج میں شریک نظر آئیں۔
اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان نے بھی حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت اور قانون کے سامنے مساوات کے اصولوں کا احترام کیا جائے۔
واضح رہے کہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور دیگر سماجی سرگرمیوں سے متعلق متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر عالمی سطح پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ افغانستان میں حجاب مخالف احتجاج کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر خواتین کے حقوق سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔















