اسلام آباد(بشارت راجہ)سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی لیول پلئنگ فیلڈ کی درخواست پر چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل اور آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری کر دیادوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کو یقینی بنائے ۔۔۔چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کے ساتھ سردار کا نام ہونے پر اظہار برہمی بھی کیا ۔۔۔ لطیف کھوسہ سے کہا کہ آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے۔۔۔ آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹربیونل میں درخواست دیں پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔۔۔۔ سماعت شروع ہوئی تو لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لیول پلینگ فیلڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے۔۔۔ جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے کہ آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے، ،الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے ۔۔۔۔ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے ۔۔۔آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں ۔۔۔ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم۔۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے 2013کے الیکشن میں بھی الزامات لگائے،عدالت نے تب بھی وقت ضاٸع کیا، کوٸی ٹھوس الزام نہیں نکلا۔۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر آپ نے ہی تعینات کیا تھا ہم نے نہیں ، مسٸلہ یہ ہے کہ کوٸی بھی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں،الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کو آپ کے تحفظات دور کرنے کا آرڈر جاری کیا 26 دسمبر کے بعد کہاں کیا ہوا وہ بتائیں۔۔۔۔ ہمیں اپنی وہ شکایات دیکھادیں جو الیکشن کمیشن میں دائرکیں۔۔۔ عدالتی اسفتسارپر ڈی جی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ بالکل لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کررہے ہیں،ان کی30 شکایات موصول ہوئیں جن کوالیکشن کمیشن نے حل کیا پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے آئی جی،چیف سیکرٹری اورایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹسزجاری کر دیا۔۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ ہائیکورٹ کا تھا کھوسہ صاحب،ہم نے آپ کوایکسٹرا مائلیج دی،یہ نہ کہیں کہ دنیا آپ کےخلاف ہوگئی ہے،مثبت سوچ اختیارکریں،ایسا نہ کہیں کہ بدترین الیکشن ہورہے ہیں۔۔۔۔اب آپ خوش ہیں،ہم صرف سوال پوچھتے ہیں ناراض نہ ہوا کریں۔۔۔۔سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت 8 جنوری کو ہو گی















