اسلام آباد (اے بی این نیوز) حکومت نے ملک میں الیکٹرک سواریوں کے فروغ کے لیے 90 روز میں ایک لاکھ الیکٹرک موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کے منصوبے پر پیش رفت شروع کردی ہے۔ پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (PAVE) پروگرام کے تحت ہر الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار روپے سبسڈی مقرر کی گئی ہے، جبکہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کمپنیوں سے دلچسپی کی درخواستیں طلب کرلی گئی ہیں۔
انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے مطابق اس منصوبے کا مقصد الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی فراہمی تیز کرنا، مقامی صنعت کو فروغ دینا اور دستیاب پیداواری صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ اقدام قومی نئی توانائی گاڑیوں کی پالیسی 2025-30 کے تحت کیا جا رہا ہے۔
200 بیچز میں تقسیم ہوں گی بائیکس
منصوبے کے تحت ایک لاکھ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے لیے 200 بیچز تشکیل دیے جائیں گے، جبکہ ہر بیچ میں 500 بائیکس شامل ہوں گی۔ اس طرح مقررہ 90 روزہ مدت میں مرحلہ وار فراہمی کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
فی بائیک 80 ہزار روپے سبسڈی
حکومتی منصوبے کے تحت ہر الیکٹرک موٹر سائیکل پر 80 ہزار روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر جاری ٹینڈر بنیادی طور پر مینوفیکچررز اور اسمبلرز سے متعلق ہے، اس لیے عام شہریوں کے لیے درخواستوں کے آغاز، اہلیت اور طریقۂ کار کی حتمی تفصیلات الگ سے جاری ہونے پر ہی واضح ہوں گی۔
کمپنیوں سے درخواستیں طلب
انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار کرنے والی کمپنیوں اور اسمبلرز سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ کمپنیوں کا انتخاب مسابقتی بولی کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ مقامی سطح پر تیاری، پیداواری صلاحیت، معیار اور مقامی پرزہ جات کے استعمال کو اہمیت دی جائے گی۔
درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 نومبر
سرکاری ٹینڈر نوٹس کے مطابق اہل کمپنیوں کو اپنی درخواستیں پیپرا کے ای-پورٹل کے ذریعے **3 نومبر 2026ء صبح 11 بجے تک** جمع کرانا ہوں گی۔ بولیاں اسی روز صبح 11 بج کر 30 منٹ پر کھولی جائیں گی۔ درخواست کے ساتھ 5 ہزار روپے ناقابلِ واپسی پروسیسنگ فیس پے آرڈر، بینک ڈرافٹ یا ڈیمانڈ ڈرافٹ کی صورت میں جمع کرانا بھی ضروری ہے۔
بورڈ کے مطابق PAVE پروگرام کے فاسٹ ٹریک مرحلے کے لیے پہلے سے پری کوالیفائیڈ کمپنیاں دوبارہ درخواست دینے سے مستثنیٰ ہیں.
منصوبے پر پیش رفت کے بعد اب کمپنیوں کے انتخاب اور فراہمی کے عملی مراحل اہم ہوں گے۔ شہریوں کے لیے سبسڈی پر الیکٹرک بائیک حاصل کرنے کی درخواستوں اور دیگر شرائط سے متعلق حتمی اعلان سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات واضح ہوں گی۔
اہم وضاحت: 3 نومبر کی آخری تاریخ کمپنیوں کے ٹینڈر کے لیے ہے، عام شہریوں کی درخواستوں کی آخری تاریخ نہیں۔
مزیدپڑھیں: سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر 12 سال بعد بیٹے کی پیدائش















