اہم خبریں

کراچی،ایل سیز نہ کھولنے کیخلاف تاجروں کا اسٹیٹ بینک کے سامنے دھرنا

کراچی(نیوزڈیسک)ملک میں زرمبادلہ کی کمی کے باعث لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) نہ کھولنے کے خلاف شہر قائد میں تاجر سڑکوں پر نکل آئے اور اسٹیٹ بینک کے باہر دھرنا دے دیا۔بینکوں کی ترسیلی قبولیت کی دستاویز، ایل سیز کی عدم قبولیت کے خلاف کراچی ٹمبر مرچنٹس گروپ کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور ٹمبر مارکیٹ کی تمام دکانیں بند رہیں۔ٹمبر مارکیٹ کے بیوپاریوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ شرکاء نے لکڑی کی تجارت بچاؤ، ڈالر دو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے تاجر اور معیشت بچاؤ کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ احتجاجی ریلی کے باعث شدید ٹریفک جام ہوگیا۔مظاہرین نے مارکیٹ میں قائم مختلف بینکوں کی شاخوں کو بھی بند کرادیا اور علاقے کے 16 بینکوں کے مینجرز کو تالے تھما دئیے۔ٹمبر بیوپاریوں کی ریلی کراچی چیمبر کے باہر پہنچی اور چیمبر عہدیداروں کے خلاف احتجاج کیا۔ انتظامیہ نے کراچی چیمبر کے دروازے بند کردئیے۔ٹمبر مارکیٹ کے بیوپاریوں کی احتجاجی ریلی اسٹیٹ بینک پہنچی اور اس کے اقدامات کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے بینک کے باہر دھرنا دیدیا۔ دھرنے کے باعث آئی آئی چندریگر روڈ پر ٹریفک جام ہوگیا۔ادھر دالوں واجناس کے بیوپاریوں کی احتجاجی ریلی بھی اسٹیٹ بینک پہنچی۔ کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کی احتجاجی ریلی میں شرکاء نے شدید نعرہ بازی کی۔شرکاء نے بندرگاہوں پر رکے 6 ہزار کنٹینرز ریلیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کنٹینرز ریلیز ہونے کے بعد ہم درآمدات بند کردیں گے۔

متعلقہ خبریں