اہم خبریں

سپریم کورٹـ :پنجاب انتخابات نظر ثانی درخواست پر سماعت آج ہوگی

پرویز مشرف سنگین غداری کیس،کاروائی صرف تین نومبرکے اقدام پرکیوں کی گئی؟جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد(بشارت راجہ)سپریم کورٹ میں پرویزمشرف کی سزا کے خلاف سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ماضی میں نہ جانے کا مشورہ دیا چیف جسٹس نے ماضی سے سبق سیکھنے کے ریمارکس دیے تو جسٹس اطہرمن اللہ بولے بالکل جائیں مشرف نےآئین توڑا،اسی عدالت نے راستہ دیا، مشرف مارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کابھی ٹرائل ہونا چاہیے، ہمیں سچ بولنا چاہیے،طاقتورکیخلاف کوئی نہیں بولتا کمزورپڑنے پرعاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے جسٹس منصورعلی شاہ بولے سزا بھی برقرار رکھیں اور پینشن بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہوگا چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے پرویزمشرف کی درخواستوں پر سماعت کی لاہورہائیکورٹ فیصلے کیخلاف حامد خان نے تحریری دلائل عدالت میں پیش کیے پاکستان بارکونسل کے وکیل ہارون الرشید نے دلائل دیے تو چیف جسٹس نے تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیاسندھ ہائیکورٹ بارکے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل میں پرویز مشرف کے مارشل لاء کا ذکر کیا تو جسٹس اطہر من اللہ نے روکتے ہوئے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گےچیف جسٹس نے ریمارکس دیے مجھے جسٹس اطہرمن اللہ کا احترام ہے مگر ہمیں اب ماضی میں جانا چاہیے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بالکل جائیں پھراسی مشرف نے12اکتوبرکوبھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبرکے اقدام کواسی عدالت نے راستہ دیا، مشرف مارشل لاء کوقانونی کہنے والے ججوں کابھی ٹرائل ہونا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے مزیدکہاکہ کاروائی صرف تین نومبرکے اقدام پرکیوں کی گئی؟ تین نومبر کوصرف ججوں پرحملہ ہونے پر کارروائی ہو گی توفئیرٹرائل کاسوال اٹھےگا،کیا ججوں پرحملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا عدالت نے سماعت 10 جنوری تک ملتوی کردی

متعلقہ خبریں