تل ابیب (نیوزڈیسک)اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے اعلان کیا کہ غزہ شہر کو چاروں اطراف سے گھیررکھا ہے ۔ اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کا محاصرہ مکمل کر لیا ، ہمارا مقصد حماس تحریک کو ختم کرنا ہے۔ دوسری طرف حماس عسکری ونگ القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ غزہ اسرائیل کیلئے قبرستان بنا دیں گے ۔لڑائی کے 27 ویں روز فریقین میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کی شہادتیں 9061 سے تجاوز کرگئیں۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نے اعتراف کیا کہ فوجی حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی میں مصروف ہیں اور دو بدو لڑائی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجیوں کا سامنا بندوق برداروں سے ہوا جنہوں نے گھات لگا کر حملہ کرنے کی کوشش کی اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد ان میں سے متعدد مارے گئے۔ اسرائیلی چیف آف سٹاف ہرٹز ہیلیوی نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی فضائی قوت کا نصف سے بھی کم استعمال کر رہا ہے۔ہیلیوی نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہم دوسرے محاذوں پر حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اسرائیلی افواج غزہ شہر کی سرزمین پر موجود ہیں اور کئی اطراف سے اس کا محاصرہ کر رہی ہیں۔ ہیلیوی نے کہا جب ہسپتال ختم ہو جائیں گے تو ہم غزہ کے زیر کنٹرول ایندھن کی منتقلی کی اجازت دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایک ہفتہ سے زیادہ پہلے بتایا گیا تھا کہ ہسپتال کا ایندھن کل ختم ہو جائے گا اور یہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ دن کب آئے گا اور اس کے بعد ہم سب کچھ کریں گے تاکہ یہ حماس تک نہ پہنچے اور اس ایندھن کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔جمعرات کو اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ غزہ میں اپنی کارروائی کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اشارہ کیا کہ ہم طے شدہ منصوبوں کے مطابق غزہ میں پیش قدمی جاری رکھیں گے۔ حماس کے زیر حراست قیدیوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ہم نے غزہ میں اغوا کیے گئے 242 افراد کے اہل خانہ کو مطلع کردیا ۔اسرائیلی افواج نے دن اور رات مختلف اوقات میں غزہ میں اپنے اہلکاروں کی تعیناتی اور غزہ کی پٹی پر محدود حملے کے مختلف ویڈیو کلپس شائع کئے۔غزہ پر زمینی آپریشن میں اسرائیلی فوج کی اعلان کردہ ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی۔ فوج نے جمعرات کو شمالی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کے دوران اپنے ایک اسرائیلی افسر کی ہلاکت کا اعلان کیا۔















