اسلام آباد(اے بی این نیوز)فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز کے متعلق کیس کی سماعت شروع چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جسٹس اعجالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عاٸشہ ملک بینچ کا حصہوفاقی حکومت نے گزشتہ روز تحریری جواب جمع کروایاوفاقی حکومت نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا ،چیف جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ججز دستیاب نہیں فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے،اس بات کی خوشی ہے کہ آرمی کے زیر حراست افراد کو خاندان سے ملنے دیا جارہا ہے
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ دستیاب ججز پر مشتمل بینچ چیف جسٹس نے ہی بنانا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ اپ کو کیا لگتا ہے کہ چیف جسٹس نے یہی نہیں کیا ہو گا؟ جسٹس منیب نے کہا کہ یہ بینچ اس کیس کو سن چکا ہے بہتر ہو گا اپ گذارشات جاری رکھیں۔جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ کیس شروع ہوا تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں تھا، بعد میں آپ نے ایک جج پر اعتراض کر دیا،اب آپ کہہ رہے ہیں کہ فل کورٹ بنا دیں آپ چاہتے کیا ہیں،آپ کہہ رہے ہیں کہ 17 جج اس کیس کے لیے دستیاب ہوں یہ ممکن نہیں،آپ عدالت کا چھبیس جون کا حکمنامہ بھی پڑھیں،وفاقی حکومت خود ایک جج پر اعتراض کر چکی ہے۔وہ کیس نہیں سن سکتے،اب آپ بتائیں فل کورٹ کیسے بنائی جاسکتی ہے،*دوران سماعت وزارت دفاع کے وکیل عرفان قادر کے اٹارنی جنرل کو لقمےاٹارنی جنرل کی عرفان قادر کو بیٹھے رہنے کی ہدایتاٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مستردکردی ۔















