پیر س ( اے بی این نیوز )فرانس میں 17 سالہ نوجوان نائیل کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر پانچویں روز بھی احتجاج جاری ہے، فرانس کی سڑکیں پانچویں دن بھی میدان جنگ بنی رہیں، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے پیرس کے میئر کے گھر سے گاڑی ٹکرادی، جس سے مئیر کے اہل خانہ زخمی ہوئے۔ جب کہ میئر پیرس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گھر کو بھی آگ لگائی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران 200 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، پولیس کی جانب سے گرفتار افراد کی تعداد 2000 سے زائد ہوچکی ہے، جب کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے 45 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔دوسری جانب مقتول نائیل کی نانی نے لوگوں سے پر امن رہنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کے دکانیں، بسیں اور اسکول تباہ ہوں، مظاہرین کا غم و غصہ فرانسیسی پولیس پر نہیں بلکہ اس افسر پہ ہے جس نے نائیل کا قتل کیا، میں پر امید ہوں کہ میرے نواسے کو انصاف ضرور ملے گا۔مقتول نائیل کے ساتھ واقعے کے وقت گاڑی میں موجود اس کے دوست کی آڈیو سامنے آئی ہے، جس میں اس نے بتایا کہ ہم نے مرسڈیز کار کرائے پر لی اور ڈرایو پر جانے کا فیصلہ کیا، ہم کسی شراب یا منشیات کے نشے کی حالت میں نہیں تھے، واقعے کی جگہ ہم پولیس کو دیکھ کر ہم رک گے۔آڈیو کے مطابق پولیس نے کہا گاڑی کا انجن بند کرو ورنہ گولی مار دوں گا- دوسرے پولیس افسر نے کہا ’اسے گولی مار دو“ پھر پولیس نے اپنی بندوق کے بٹ سے نائیل کو مارا، ہم آٹومیٹک گاڑی میں تھے اور گاڑی اس وقت پارکنگ میں نہیں تھی۔مبینہ دوست نے آڈیو میں بتایا کہ پولیس نے نائیل کو پے دو پے بندوق کے بٹ مارے، اور جب نائیل کو بندوق کے بٹ سے تیسری بار مارا گیا تو اس کے پاؤں نے بریک پیڈل چھوڑ دیا اور گاڑی آگے بڑھ گی، دوسرا افسر جو ونڈ اسکرین پر کھڑا تھا اس نے گولی چلا دی، میں ڈر گیا تھا اور اس لیے گاڑی سے اتر کر بھاگ گیا، مجھے لگا وہ مجھے بھی گولی مار دیں گے-















