اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت وفاقی حکومت کے اعتراض پر جسٹس منصور علی شاہ بنچ سے علیحدہ ہوگئے. عدالت نے کہا حکومت نے پہلے بھی ایسے اعتراضات اٹھائے الیکشن کیس میں نوے روز پر کسی نے اعتراض نہیں کیا بس بنچ پر اعتراض کیا گیا جبکہ ایک مرتبہ پھر بنچ کو متنازعہ بنا رہے ہیں. آئینی بحث کے بجائے دیگر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں. چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا تو مفروضوں پر کیوں جا رہے ہیں؟ یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے. آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا ہے. سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کیخلاف ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا سات رکنی بنچ کے ممبر جسٹس منصور علی شاہ پر حکومتی اعتراض کے بعد بنچ ٹوٹ گیا اور پھر چھ رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا میرے موکل کے بیٹے کا معاملہ ملٹری کورٹس میں ہے ٹرائل صرف آرٹیکل 175 کے تحت تعینات کیا گیا جج کر سکتا ہے. چیف جسٹس نے کہا مفروضہ پر بات کر رہے ہیں کہ جب ٹرائل ہوگا تو یہ ہونا چاہیے وہ ہونا چاہیے جبکہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا ہے. وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا آرٹیکل 175 تین کے تحت اختیارات کوئی اور استعمال نہیں کرسکتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ خود ایک کیس میں طے کر چکی کہ جوڈیشل امور عدلیہ ہی چلا سکتی ہے. جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا آپ بتائیں کیا سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے یا نہیں؟ آپ آرمی ایکٹ کی شقیں چیلنج کر رہے ہیں لیکن وجوہات نہیں بتا رہے ہیں. بہت سی عدالتیں یا ٹربیونل ایسے بھی ہیں جہاں ججز آرٹیکل 175 کے تحت نہیں لگائے گئے. کیا ہم یہ کہیں کہ ملٹری کورٹس عدالتیں ہیں لیکن اس کیس میں عدالت نہیں کہلائیں گی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا فوجی عدالتوں میں سویلین کو بنیادی حقوق نہیں ملتے ہیں جبکہ آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹرائل ہوتا ہے تو اس لئے سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ڈسپلن کی خلاف ورزی کا معاملہ نہیں ہے. چیف جسٹس نے کہا یہ اچھا پوائنٹ ہے تاہم امریکی قانون ان سویلین کے بارے میں کیا کہتا ہے جو ریاست کیخلاف ڈٹ جائیں. وکیل سلمان اکرم راجہ بولے امریکہ میں سویلینز کی غیر ریاستی سرگرمیوں پر ٹرائل سول عدالتوں میں ہی ہوتا ہے. جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ جنوبی ایشیاء میں کسی ملک میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل ہوتے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو اور بنیادی حقوق معطل ہو تو کیا پھر سویلینز کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہوسکتا ہے. وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا آرمی ایکٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران کے علاوہ سویلینز کو بھی شامل کیا گیا اس لیے قانون کو چیلنج کیا ہے. عدالت پر چھوڑتا ہوں کہ سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں ہونے پر کیسے دیکھتے ہیں.چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا میرے موکل کا موقف ہے نو مئی کے واقعات میں ملوث کسی شخص کو رہا نہ کیا جائے جبکہ ان کا ٹرائل قانون کے مطابق ہو اور عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے. چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا کر کہا ہمیں کچھ یقین دہانیاں چاہیے. بتایا جائے ملٹری ٹرائل کا کیا بنا اور اب تک کی کیا پیش رفت ہے. اٹارنی جنرل نے کہا ابھی تحقیقات چل رہی ہیں ممکن ہے تحقیقات کے دوران 102 افراد سے کئی کو چھوڑ دیاجائے. جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا اٹارنی جنرل صاحب پک اینڈ چوز کے پیچھے کیا وجوہات کار فرما ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا جن افراد نے ممنوعہ جگہ پر حملہ نہیں کیا ان کو چھوڑ دیا جائے گا. جسٹس عائشہ ملک نے کہا آپ یہ بیان اپنے موکل کی ہدایت پر دے رہے ہیں یا اپکا زاتی بیان ہے؟ آپ بغیر اعدادوشمار کے بات کررہے ہیں. اٹارنی جنرل بولے میں کوئی بھی بات عدالت میں ہدایت کے بغیر نہیں کرتا ہوں.چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا امید ہے اس کیس کی سماعت کے دوران کسی سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں کیا جائے گا اور جو افراد گرفتار کئے گئے ہیں ان کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کریں. عدالت نے وکیل سلمان اکرم راجہ کی فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف حکم امتناع اور پی ٹی آئی وکیل کی جانب سے تحقیقات کیلئے عدالتی جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا فلحال مسترد کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی۔















