ماسکو(نیوزڈیسک)نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع روسی حملے کے خلاف دفاعی حکمت عملی پر متفق نہ ہوسکے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیٹو سیکریٹری جنرل جینز اسٹالٹنبرگ نے کہا کہ وزرا نے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ سرد جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بڑے پیمانے پر دفاعی حکمت عملی کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس سے قبل نیٹو کو کئی دہائیوں تک کسی بڑے دفاعی منصوبے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اس نے افغانستان اور عراق میں مختصر جنگیں لڑی تھیں۔لیکن جنگ عظیم دوم کے بعد اب تک کی سب سے خونی جنگ کی وجہ سے نیٹو نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے پاس جامع جنگی حکمت عملی تیار ہونی چاہیے۔فورسز اور لاجسٹکس کو اپ گریڈ کرنے کیلئے نیٹو اپنے اتحادی ممالک کی رہنمائی کرے گا۔اس حکمت عملی سے متعلق برسلز میں جاری دو روزہ اجلاس میں فیصلہ کیا جانا تھا جو نہ ہوسکا۔ایک سفارتکار نے بتایا کہ ترکیہ نے جغرافیائی مقامات کیلئے استعمال کیے گئے الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے حکمت عملی کی منظوری دینے سے انکار کیا۔سفارتکار کا کہنا تھا کہ جولائی کے وسط میں ایک اور نیٹو سمٹ ہوگی جہاں ممکن ہے کہ حکمت عملی سے متعلق حل نکالا جائے۔نیٹو میں تعینات ترکیہ کے سفارتی مشن کا کہنا تھا کہ خفیہ نیٹو دستاویز پر کوئی رائے دینا غلط ہوگا۔سفارتی مشن نے کہا کہ اتحادی ممالک کے درمیان معمول کے مراحل کے مطابق مشاورت کا عمل جاری ہے۔















