اسلام آباد(نیوزڈیسک)تمباکو کی صنعت کی مہلک مصنوعات پاکستانی بچوں کےحال اور مستقبل کو تاریک بنا رہی ہیں، حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بچے ان مصنوعات سے محفوظ رہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک)کی جانب سے عالمی یوم انسداد تمباکو نوشی 2023 کے موقع پرمنعقدہ تقریب کےدوران کیا۔پارلیمانی سیکرٹری وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نےکہا کہ61 ملین نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں لیکن تمباکو کی خطرناک مصنوعات ہمارے حال اور مستقبل کیلئےخطرہ ہیں، حکومت نے حال ہی میں تمباکو کی مصنوعات پرٹیکس بڑھایا ہے تاکہ یہ مصنوعات نوجوانوں کی قوت خرید سےباہرہوجائیں۔ ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نےکہا کہ تقریباً 1200 بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں اورہر سال 170,000 لوگ تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ہم کسی بھی قیمت پر نوجوانوں کی زندگیوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے،نوجوانوں کو پروان چڑھنا چاہیےاوراس کےلیے تمباکو کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا ناگزیر ہے۔ایم این اے اور ممبر سٹینڈنگ کمیٹی ہیلتھ ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے عالمی یوم انسداد تمباکو نوشی 2023 کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ ہمارے بچوں کو تمباکو کی نہیں خوراک کی ضرورت ہے۔انہوں نےکہا کہ مہنگائی کی وجہ سے پاکستان کےبچوں اور نوجوانوں کواپنی تعلیمی، غذائیت اورتفریحی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے،لہٰذا تمباکو کی قیمتوں میں اضافے کےحکومتی فیصلے کا سب کوخیرمقدم اور حمایت کرنا چاہیے۔ ممبر سٹینڈنگ کمیٹی نیشنل اسمبلی آف پاکستان برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر ثمینہ مطلوب نےکہا کہ پاکستانی نوجوان تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور اشتہارات کی زد میں ہیں،گھر، تعلیمی ادارے، تفریحی مقامات ان مصنوعات نے ہرطرف سے بچوں کو گھیرا ہوا ہے، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کوان مصنوعات سے محفوظ رکھیں۔ سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل وزارت صحت ڈاکٹر ضیاءالدین اسلام نےکہا کہ تمباکو کی صنعت روزگار فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت میں یہ معیشت کو نقصان پہنچارہی ہے،حکومت کی جانب سے تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانےکاحالیہ فیصلہ قابل تحسین ہے، اس میں مزید بہتری لانےکیلئے ایکسائز ڈیوٹی کو مالی سال 2023-24 کے لیے افراط زر کے مطابق بڑھایا جانا چاہیے۔ ڈی جی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سلمان احمدہمارے نوجوان ایک محفوظ اورصحت مند مستقبل چاہتے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز فیصلہ کریں کہ آیا وہ نوجوانوں کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں یا ایسی صنعت جو اپنے منافع کوجاری رکھنےکیلئےنوجوانوں کو نشے کا عادی بنا کران کا مستقبل برباد کر رہی ہے۔سپارک کے پروگرام مینیجرخلیل احمد ڈوگر نےکہا کہ پاکستان میں ایف بی آر کا لاگو کردہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اس بات کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ ہے کہ تمباکو کی صنعت ہماری معیشت کو مزید نقصان نہ پہنچا سکے۔انہوں نے بتایا کہ اس سسٹم کے نفاذ کے بعد سگریٹ اسٹکس کی پیداوار میں کمی آئی ہے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 11.75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سپارک خالدہ احمد نےکہا کہ 1992 سے سپارک بچوں کے حقوق کےلیے کام کر رہی ہے،تمباکو بچوں کے متعدد حقوق کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور اس لیے ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپارک نے تمباکو سے پاک پاکستان بنانے کے لیے “یوتھ ایڈوکیٹس اگینسٹ ٹوبیکو” مہم کا آغاز کیا ہے،ہمارا مقصد اپنے نوجوانوں کوآج اور مستقبل میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس تقریب میں سینئرصحافیوں،سول سوسائٹی کے کارکنان اورماہرین صحت نے شرکت کی جنہوں نے تمباکو کے نقصانات کے بارے میں شعور بیدار کرنےمیں سپارک کی مسلسل کاوششوں کو سراہا۔















