اہم خبریں

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی احتساب ترمیمی بل 2023 سمیت 8بلوں کی منظوری دیدی گئی جبکہ ایک بل موخر کردیا گیا

اسلام آباد(    )پیر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے اس حوالہ سے بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی، سپیکر کی جانب سے اجازت ملنے پرانہوں نے بل ایوان میں پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک جماعت کہہ رہی ہے کہ یہ این آر او ہے، اگریہ این آر اوہے توصرف اسی جماعت کیلئے ہے۔صدر مملکت کاتعلق بھی اسی جماعت سے ہے اور انہوں نے یہ بل بغیر دستخط کے واپس بھیج دیا ہے۔عدالتی احکامات کے مطابق یہ ترامیم کی جا رہی ہیں۔قانون سازی پر کوئی فرد یا ادارہ قدغن نہیں لگا سکتا۔ صدر نے اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے اس پرقانون سازی نہیں ہو سکتی،صدرمملکت پارلیمان کاحصہ ہے مگرانہیں پارلیمان کے قوانین کا علم نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جو ترامیم کی جا رہی ہیں وہ ضروری ہیں۔ انہوں نے یہ بل ایوان میں پیش کر دیا، ایوان نے بل کی کثرت رائے سے شق وار منظوری دیدی۔بل کی منظوری کے دوران سینیٹر مشتاق احمد خان کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ نیب کو ماضی میں مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ احتساب صرف سیاستدانوں کا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو ڈریکونئین قانون نہیں ہونا چاہئے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے دانت بھی نہیں نکالنا چاہئیں، نیب کے چیئرمین کا تقرر لیڈر آف دی ہائوس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کی مشاورت سے ہوتا ہے، یہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور اگر اس میں تبدیلی کی گئی تو مستقبل میں اسے موجودہ برسراقتدار جماعتوں کے خلاف استعمال کیا جائیگا۔وزیر قانون نے کہا کہ قوانین کے تحت ججز اور جرنیلوں کے احتساب کا الگ طریقہ کار ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین اس لئے تعینات ہوتے ہیں کہ چیئرمین کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین نیب کی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔انہوں نے کہا کہ جب چیئرمین ملک سے باہر ہوں اور ڈپٹی چیئرمین بھی نہ ہوں تو اس صورت میں وفاقی حکومت تعیناتی کر سکتی ہے۔بعد ازاں شق وار منظوری کے بعد قومی احتساب ترمیمی بل 2023 کی منظوری دیدی گئی۔کشور زہرہ نے انسانی اعضا و عضلات کی پیوند کاری(ترمیمی) بل 2021ایوان میں پیش کیا جس کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی گئی۔بعد ازاں سنیٹر قرت العین مری نے تین بلز ’تربیت یافتہ نیم طبی عملہ کی سہولت کا بل2019،دن کے اوقات میں بچوں کی نگہداشت کے مراکز کا بل 2019اور رخصت برائے مادریت و پدریت بل 2020‘پیش کیئے جن کی اتفاق رائے سے منظور دیدی گئی۔کیسو مل کھیل داس نے فوجداری قوانین(ترمیمی)بل 2022ایوان میں پیش کیا اس بل کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دیدی گئی۔سید جاوید حسنین نے دو بلز’تحدید(ترمیمی)بل 2022اورخصوصی ریلیف(ترمیمی)بل 2022‘ایوان میں پیش کیئے جن کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔والدین کا تحفظ بل 2022موخر کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں