اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا دھرنے سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ اب فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے اب فیصلہ اس سامنے کی عمارت میں نہیں ہوگا ،جانبدار جج اپنی حثیت کو مجروح کرچکا ھے۔ہم پاکستان کی عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ھے ،اگر عدالتی وقار کے لیے چند ججز کو قربان کیا جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا،عدلیہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر اس کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے دو چار جج قربان ہوجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا،ہم عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں،بندیال صاحب ہم آپ کو جانتے بھی ہی اور آپ کا احترام بھی کرتے ہیں،آپ کو کسی بھی سیاست کی تضحیک کی اجازت نہیں دی جا سکتی،آپ پارلیمنٹ کی تذلیل کریں گے تو ہمارا جواب بھی بہت سخت ہوگا،آپ نے اگر سیاست کرنی ھے تو اس بلڈنگ سے باہر آو،ہم بھی کھڑے ہوں گے تم بھی کھڑے ہوجاو، تمیں اوقات کا پتہ چلے گا۔ہم کہنا چاہتے ھے کدھر ھے وہ جتھاکدھر ھے تحریک انصاف کے دھشتگرد، انہوں نے کہا کہبندیال صاحب آپ کو پارلیمنٹ کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ہتھوڑا گردی نامنظور، تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں، میں کہتا ہوں کہ ساری پولیس ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے، اس عمارت کی عزت و تقدس پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ہمارے کارکن اس عمارت کا تحفظ کریں گے۔دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں ننگی دھاندلی ہوئی۔ہم نے یہ نہ دیکھا کہ جرنیل ناراض ہوگا۔اسوقت آپ کو سوموٹو کا کوئی احساس کیوں نہیں ہوا۔ہم نے چودہ ملین مارچ کیے، اسوقت کیوں سوموٹو نہیں لیاہم نے اسلام آباد میں پندرہ دن تک دھرنا دیا، اسوقت آپکے جسم پر کوئی جوں تک نہیں رینگی جب جج نے عوام کا سمندر دیکھا تو ایک ہفتے کے لیے کیس ملتوی کردیا،انکا خیال ھے کہ یہ مجمع چلا جائیگا تو دوبارہ سماعت کریں گےمیں انکو بتانا چاہتا ہوں ہم ایک دن کے نوٹس پر دوبارہ آئیں گے اس سے زیادہ تعداد میں لوگ آئیں گے۔















