اہم خبریں

پاکستان سے متعلق پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، آئی ایم ایف

اسلام آباد (  اے بی این نیوز   )آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے معاہدے یا شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ’آئی ایم ایف‘ کی طرف سے قرضوں کی واپسی 6 بلین ڈالر سے بڑھا کر 8 بلین ڈالر تک کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے پاکستان کے لیے نمائندے ایستھر پیریز روئز نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ’آئی ایم ایف‘ نے پاکستان سے قرضوں کی واپسی کے لیے شرائط یا معاہدہ تبدیل کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اب پاکستان سے قرضے کی واپسی کے لیے پہلی قسط 6 بلین ڈالر کی بجائے 8 بلین ڈالر وصول کرے گا۔ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایستھر پیریز روئز نے ان تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی ایم ایف ‘ پاکستان سے قرضوں کی واپسی کے لیے اپنے پروگرام یا طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں لایا۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ’سٹاف لیول‘ معاہدے سے پہلے ’آئی ایم ایف‘ پاکستان کے سامنے نئے مطالبات رکھ دیے ہیں۔ان مطالبات میں پاکستانی حکام کو ’آئی ایم ایف‘ کو2023 تک 8 ارب ڈالر قرضوں کی واپسی کے انتظامات پر مطمئن کرنا ہوگا جب کہ پہلے معاہدے کے تحت پاکستان کو ’آئی ایم ایف‘ کو 6 ملین ڈالرادا کرنا تھے۔ذرائع ابلاغ نے وزارت خزانہ کے ذرائع سے یہ خبر دی تھی کہ مئی اور جون 2023 کے دوران پاکستان نے 3.7 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کرنا ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ’آئی ایم ایف‘ نے مزید 2.4ارب ڈالر کی یقین دہانی مانگی ہے۔پیریز روئیز نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ: ’پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران بیرونی امداد کی مد میں لیے گئے قرضوں کی واپسی کے طریقہ کار یا اس میں کسی بھی اضافے کی کوئی بات نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں