اہم خبریں

ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل پرسندھ اور پنجاب کی کمیشنز کا اظہار تشویش

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد منیر نے قومی اسمبلی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل پیش ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا بل آئین کی اٹھارویں ترمیم اور سندھ ہائر ایجوکیشن ایکٹ 2013 سے متصادم ہے۔دونوں ایچ ای سیز کے سربراہوں کی جانب سے سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کو لکھے گئے خطوط میں کہا گیا کہ یہ ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس بل میں ایچ ای سی کی تقریباً تمام ہی شقوں میں ترمیم کر کے نئی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ مخصوص خواہشات پر مبنی ترامیم اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کیے بغیر تجویز کی گئی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت اور ایچ ای سی کو اعتماد میں لیے بغیر ترمیمی بل پیش کیا گیا۔اس ترمیمی بل کے پیش کیے جانے سے ایچ ای سی کے اداروں اور صوبائی حکومتوں میں تشویش پھیل گئی ۔خطوط میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے چند ارکان کی طرف سے پیش کیے گئے ترمیمی بل میں ایچ ای سی آرڈیننس میں 40 ترامیم تجویز کی گئیں۔قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بل کے نام سے جمع کروائی گئی ترمیمی بل آئین کی اٹھارویں ترمیم سے متصادم ہے۔خطوط میں کہا گیا ہے کہ ترامیم سے صوبائی ایچ ای سیز، جامعات اور سول سوسائٹی پر اثرات کا خدشہ ہے اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر قانون میں ترامیم پیش کرنا حیران کن ہے۔

متعلقہ خبریں