اسلام آباد (اے بی این نیوز)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے نیب اور ایف آئی اے سے ای او بی آئی سے متعلق کیسز پر پیشرفت بارے تفصیلات طلب کرلیں جبکہ ای او بی آئی کی جانب سے پنشن کی مد میں مشکوک ادائیگیوں کے معاملے پر نیشنل بینک کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا،پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا کنوینر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزارت اوورسیز پاکستانیز سے متعلق سال2017-18 اور 2018-19 کےآڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی آڈٹ بریفنگ کے مطابق ای او بی آئی کی جانب سے پرائماکو نے ملٹی پرپز سنیپلیکس اورکمرشل کمپلیکس کے لئےکنٹریکٹ ایوارڈ کیا،کنٹریکٹ خلاف ضابطہ طور پر زیادہ ریٹس پر دیا گیا،892ملین کی زیادہ ادائیگی کی گئی اورمنصوبہ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوا، سیکرٹری اوورسیز نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ ایف آئی اے میں ہے، ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ انویسٹی گیشن مکمل ہے فائنل چالان مئی میں جمع کیا جائےگا،موبلائزیشن ایڈوانس 15کے بجائے 20 فیصد زیادہ گیا،کمیٹی نے نیب اور ایف آئی اے سے ای او بی آئی سے متعلق کیسز پر پیشرفت بارے تفصیلات طلب کرلیں۔۔۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ای او بی آئی کی جانب سے پنشن کی مد میں33 ارب کی مشکوک ادائیگی کی گئی،جنوری 2009 سے جون 2018 تک 33 ارب کی مشکوک پیمنٹ کی گئی،رقم نیشنل بینک، تعمیر مائیکرو فنانس بینک اور بینک الفلاح کے ذریعے تقسیم کی گئی،چیئرپرسن ای او بی آئی نے کمیٹی کو بتایا کہ تعمیر مائیکرو فنانس بینک اور بینک الفلاح کا ڈیجیٹلائز ریکارڈ جمع کروادیا گیاہے،کمیٹی نے معاملے پر نیشنل بینک کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا۔















