اہم خبریں

کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں،بھارت کے مزموم عزائم کا بھرپور جواب دیا جائے گا، سیاست سے کو ئی تعلق نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (اے بی این نیوز)پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ایشوہے اوراس کی متنازع حیثیت کوبدلانہیں جاسکتااورنہ ہی یہ بھارت کااٹوٹ انگ ہے ،بھارت کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کی پاک فوج مکمل صلاحیت رکھتی ہے آرمی چیف نے کمان سنبھالتے ہی اپنے پہلے لائن آف کنٹرول کے دورے میں واضح طور پرکہاتھاکہ فوج ملک کے چپے چپے کادفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے عوام کی حمایت سے بھارت کے مذموم عزائم کابھرپور جواب دیاجائے گا ،فوج کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں اورسیاسی جماعتوں کوچاہیے کہ فوج کی سیاست سے دور رہنے کی سوچ کوتقویت دیں تمام سیاسی جماعتیں اورسیاسی رہنمائوں کااحترام کرتے ہیں انتخابات کے معاملےپرپاک فوج کے سینئرافسران سپریم کورٹ کے بینچ کوان چیمبربریفنگ دے چکے ہیں اوریہ بریفنگ زمینی حقائق کے مطابق ہے ،سی پیک منصوبوں کے لیے مکمل سیکورٹی دی جارہی ہے ،کورٹ مارشل ،ایمرجنسی یامارشل لاء سے متعلق سوشل میڈیاپر جوبے بنیاد باتیں کی جاتی ہیں ان پرتوجہ نہ دی جائے بلکہ میڈیاآئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس ریلیز پراپنی توجہ رکھے۔منگل کو آئی ایس پی آرمیں ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل احمدشریف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ رواں سال دہشتگردی واقعات میں 137شہیداور117زخمی ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کےخلاف آپریشن بھرپوراندازمیں جاری ہے،گزشتہ 20سال سے افواج پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑرہی ہے،دہشتگردوں کادین اسلام اورپاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں افواج اورسیکیورٹی اداروں نے کرداراداکیا،کے پی پولیس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ میجرجنرل احمدشریف نے کہاکہ خیبرپختونخواپولیس کی استعدادکارمیں بہتری لارہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاک افغان بارڈرپرباڑلگانے کاکام 98فیصداور پاک ایران بارڈرپرباڑلگانےکاکام85فیصدمکمل ہوچکاہے ۔ میجر جنرل احمد شریف نے کہاکہ مغربی بارڈرپر3141کلومیٹرپرباڑلگائی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کوخوشحال،مستحکم بناناہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر بھارت کاکبھی اٹوٹ انگ نہیں رہا۔ میجر جنرل احمد شریف نے کہاکہ ضرورت پڑی توجنگ بھارت کے گھرتک لے جائیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ فوج کے سیاسی استعمال سے انتشارپھیلتاہے،سیاستدان فوج کی غیرسیاسی ہونے کی سوچ کوتقویت دیں۔ انہوںنے و اضح کیا کہ فوج کاغیرسیاسی ہونابہترمفادمیں ہے، افواج پاکستان کوسیاست میں گھسیٹناملک وقوم کے مفادمیں نہیں۔انہوںنے کہاکہ افواج کوسیاست میں گھسیٹنے سے انتشارپھیلے گا،پاک فوج قومی فوج ہے کسی خاص جماعت ،سوچ یانظریے کی حامی نہیں۔ انہوںنے ایک بار پھر واضح کیا کہ فوج کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوںنے کہاکہ اعلیٰ عسکری حکام کی چیف جسٹس سے ملاقات کی تفصیلات پبلک نہیں کی جاسکتی۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پرآئےروزپروپیگنڈا کیا جاتا ہے،آئی ایس پی آرکے جعلی میڈیااکاو¿نٹس پرفضول ،بے بنیادپروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔میجرجنرل احمدشریف نے کہاکہ الیکشن کیلئے فوج کی فراہمی پروزارت دفاع الیکشن کمیشن اورعدالت کو آگاہ کرچکی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ فوج میں انصاف،احتساب کامضبوط نظام موجودہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جنرل(ر)قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمیدکے کورٹ مارشل سے متعلق سوال کاجواب دینے سے گریزکیا اور کہاکہ آپ صرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر فوکس کریں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھارت اپنے مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پرالزام تراشیاں کرتاہے،فالس فلیگ آپریشن کی باتیں اسی مقاصدکےلئے ہیں۔میجرجنرل احمدشریف نے کہاکہ بھارت ہمیشہ الزام تراشیاں کرتارہےگا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین کے تاریخی اوردیرینہ تعلقات ہیں،آرمی چیف کے دورہ چین میں تمام پہلوو¿ں پربات چیت ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ کلبھوشن سے متعلق سوال وزارت خارجہ سے کیا جائے یہ حساس معاملہ ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے جنگ بندی معاہدے کے باوجودرواں سال 56بارسرحدی خلاف ورزی کی۔ انہوںنے واضح کیا کہ بھارت کی گیدڑبھپکیوں سے نہیں ڈرتے کسی بھی جارحیت کامنہ توڑجواب دینگے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاک فوج نے بھارت کے 6جاسوسی ڈرون گرائے۔ انہوںنے کہاکہ دہشتگردچندماہ سے بلوچستان اورکے پی میں حالات خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں،کالعدم ٹی ٹی پی کاپاکستان مخالف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعلق ثابت ہو چکا ہے ،کراچی اورپشاور کے2 بڑے واقعات کے ماسٹر مائنڈ ز پکڑے جا چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ انہوںنے کہاکہ ملک میں روزدہشتگردی کیخلاف 70انٹیلی جنس بیسڈآپریشنزہورہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کے پی میں 3654 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر احمد شریف نے کہاکہ 161.9ارب روپے کےترقیاتی کاموں پر 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ،ترقیاتی کاموں میںہسپتال ،درس گاہیں ،مارکیٹس اور انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے ۔ میجر جنرل احمد شریف نے کہاکہ بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں پر کام کی رفتار اطمینان بخش ہے، سی پیک کی سیکیورٹی چین مطمئن ہے ،چینی حکام کی سیکیورٹی انتہائی اہم اور حدساس معاملہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عالمی سطح پر بھی افواج پاکستان ترکیہ اور شام میں امدادی کام کررہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاک فوج کفایت شعاری کی حکومتی مہم کا بھرپور حصہ ہے ،ہر قسم کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی گئی ہے ،پیٹرولی ،راشن ،تعمیرات اور دیگر نقل حرکت کم کی گئی ہے،اخراجات بچانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو خوش حال اور مستحکم ملک بنانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کے حوالے سے فوج کی تعیناتی آرٹیکل245کے تحت ہوتی ہے ،وزارت دفاع کے ذریعے سپریم کورٹ ،الیکشن کمیشن کو صورتحال بتا چکے ہیں ،وزارت دفاع کے ذریعے تمام زمینی حقائق کی وضاحت کردی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سابق فوجی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آرمی چیف قومی اتفاق رائے ہونے کے فارمولے کا اظہارکرچکے ہیں ،موجودہ حالات میں قومی اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ مارشل لا اور ایمرجنسی سے متعلق محض قیاس آرائیاں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ فوج میں احتساب کا عمل چلتا رہتا ہے ،جب کسی کیخلاف شواہد ملتے ہیں تو احتساب بھی ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں