اہم خبریں

امریکی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر پر فرد جرم عائد،ٹرمپ کا الزامات تسلیم کرنے سے انکار

واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فرد جرم عائد کردی۔ امریکی تاریخ میں کسی بھی سابق صدر پر فرد جرم عائد ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی مین ہیٹن گرینڈ جیوری نے 2016 کی انتخابی مہم کے دوران بالغ فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینیئلز کو معاملات چھپانے کے لیے رقم ادا کرنے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فرد جرم عائد کی۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اگلے سال پھر صدارتی الیکشن لڑنے پر بضد ہیں۔سابق امریکی صدرٹرمپ نے کارروائی سیاسی دشمنی اور انتخابی عمل میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حلف برداری سے پہلے ہی بائیں بازو کے ڈیموکریٹ ان کے پیچھے پڑ گئے تھے تاکہ امریکا کو عظیم تر بنانے کی تحریک ناکام بنادیں۔سابق صدر پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے فیصلہ جیوری کی ووٹنگ کی بنیاد پر کیا گیا۔ فیصلے کے بعد پراسیکیوٹر آفس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گرفتاری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کسی بھی امریکی صدر یا سابق صدر پر فرد جرم عائد ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کیس میں زیادہ سے زیادہ 4 سال قید یا جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سابق صدر نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کا مقصد انہیں آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے محروم کرنا ہے۔ٹرمپ نے بتایا کہ نظام انصاف کو ڈیموکریٹس نے اپنا ہتھیار بنالیا ہے تاکہ سیاسی مخالف کو سزا دی جاسکے۔
سابق صدر کی وکیل علینا حببا نے کہا ہے کہ ٹرمپ امریکا کے کرپٹ نظام انصاف کے شکار ہیں، یقینی طور پر بری ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اگلے ہفتے خود کو جیوری کے سامنے پیش کرنے کا امکان ہے۔ری پبلکن رہنماؤں نے ٹرمپ کیخلاف کارروائی انہیں صدارتی الیکشن سے باہر رکھنے کی سیاسی سازش قرار دے دی ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر جیوری کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی بھی موجودہ یا سابق صدر کو کرمنل چارجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں