اسلام آباد ( اے بی این نیوز )کراچی حیدرآباد آباد موٹروے پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فائدے کے لئے دو انٹرچینجز بنائےجانےکا انکشاف ہواہے،آڈٹ دستاویز میں ڈی ایچ اے سٹی اور بحریہ ٹاؤن کے انٹرچینجز غیر قانونی ہونے کی نشاندہی کی گئی ہےاے بی این نیوز کو موصول آڈٹ دستاویز کے مطابق کراچی حیدرآباد موٹروے ایم نائن کا کام 2016 میں بی اوٹی کی بنیاد پر دیا گیا،بحریہ ٹاؤن کے انٹرچینج کے لئے491 کنال اراضی این ایچ اے حکام کی منظوری کے بغیر استعمال کی گئی،اراضی این ایچ اے کے ساتھ لیز معاہدے کے بغیر انٹر چینج کی تعمیر کے لئے استعمال کی گئی، دستاویز کے مطابق ڈی ایچ اے سٹی کے لئے این ایچ اے کی زمین پر انٹرچینج اور رسائی سڑک تعمیر کی گئی،294 کنال کو این ایچ اے حکام کی منظوری کے بغیر اورلیز کا معاہدہ کئےبغیراستعمال کیا گیا،دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ نے مئی جون 2021 میں اس معاملے کی نشاندہی کی،ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیےدو انٹرچینجز بنائے گئے،این ایچ اے کی اراضی پر این ایچ اےکی منظوری کے بغیر تعمیرات کی گئیں۔















