ریاض(نیوزڈیسک) سعودی عرب حکومت کا یوکرائن کو 40 کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا فیصلہ۔سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے یوکرین کے شہر کیف کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا جب کہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے۔سعودی میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زلینسکی سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات کی۔سعودی وزیرخارجہ نے اپنے یوکرینی ہم منصب دمترو کلیبا اورصدر کے دفتر کے سربراہ آندرے یرماک سے بھی ملاقات کی۔سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورکے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا ہے۔سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا مقصد یوکرین کے بحران کوپُرامن طریقے سے حل کرنا اور یوکرین اور اس کے عوام کوجنگ کے سماجی اور معاشی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مدد مہیّاکرنا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق 10کروڑڈالر کے مشترکہ تعاون پروگرام کے معاہدے پردست خط کیے گئے ہیں جس کامقصد یوکرین کوانسانی امداد مہیّاکرنا ہے۔دست خط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی یوکرین کی 30 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات کی شکل میں مالی اعانت کرے گا اور اس پر فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان عبدالرحمٰن المرشد نے دست خط کئے تھے۔اس امدادی پیکیج کا اعلان سب سے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال اکتوبر میں یوکرین کے صدر سے فون پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔ولی عہد نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا تھا۔یوکرین پرروس کے حملے کے آغاز کے بعد سے، سعودی عرب نے غیرجانبدارانہ مؤقف برقرار رکھا ہے۔اس نے کشیدگی میں کمی پرزوردیا ہے اور اوپیک پلس کے رکن روس کے ساتھ اپنے تعلقات کوجوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے کیف کی حمایت کی پیش کش کی ہےاورپُرامن حل تک پہنچنے کے لیے تنازع کے فریقوں کے درمیان ثالثی کے کردارپرآمادگی کااظہار کیا ۔سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورکے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا۔سعودی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا مقصد یوکرین کے بحران کوپُرامن طریقے سے حل کرنا اور یوکرین اور اس کے عوام کوجنگ کے سماجی اور معاشی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مدد مہیاکرنا ہے۔















