اسلام آباد(اے بی این نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس ہوا، اجلا س میں قرآن مجید کی اشاعت و طباعت ترمیمی بل 2022 پر وزارت مذہبی امور کی بریفنگ دی گئی،وزارت مذہبی امور نے کہا کہ قرآن مجید کے احترام ،غلطی سے پاک اشاعت اور بوسیدہ اوراق کی حرمت برقرار رکھنے کے لئے قانون بنایا جارہاہے،2018 میں وفاقی کابینہ نے مسورہ قانون کی منظوری دی تھی،قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد رواں برس جنوری میں یہ بل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ محمد صابر شاہ رکن کمیٹی نے کہا کہ یہ بل بہت اہمیت کا حامل ہے،جس میں کئی نکات شامل کرنے کی ضرورت ہے،قرآن مجید کے بعض نسخے کمزور کاغذ پر چھاپے جاتے ہیں۔یہ قرآنی نسخے جلد خستہ حال ہوجاتے ہیں جس سے اس کی بے حرمتی ہوتی ہے،شہید اور خستہ حال اوراق کا سنبھالنا اہم ہے مگر ناقص کاغذ کا استعمال روکنا بھی ضروری ہے۔مافیا ذاتی مفادات کے لئے غیر معیاری قرآن کی طباعت کرتاہے۔مجوزہ قانون میں قرآن مجید کے لئے کوالٹی کے کاغذ کا استعمال لازمی قرار دیا جائے۔وزارت مذہبی امور نے کہا کہ معیاری کاغذ کا استعمال مجوزہ بل میں شامل ہے۔بل میں درج ہے کہ کم از کم 57 گرام کا کاغذ استعمال کیا جائے گا۔ ایسا کاغذ قرآن مجید کی طباعت میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا جس کے دوسری طرف تحریر دکھائی دے۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں کاغذ کے نمونے پیش کرنے کی ہدایت کردی ،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے سیکریٹریز وزارت مذہبی امور کو بھی مدعو کرلی،صوبوں سے قرآن مجید کی طباعت واشاعت اور کاغذ کے معیار وغیرہ پر مشاورت کی جائے گی۔وزارت مذہبی امور نے غیر ملکی سکھ یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی پر بریفنگ دی،وزارت مزہبی امور کا مطالبہ کیا کہ بھارت پاکستانی عازمین زیارت کے لیے ویزوں کی تعداد بڑھائے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذہبی مقامات کی زیارتوں کے حوالے سے 50 برس قبل معاہدہ ہوا تھا۔اس معاہدے کے تحت پاکستانیوں کو بھارت میں واقع زیارتوں کے لئے 5 سو کی بجائے دو ،ڈھائی سو ویزے دیئے جاتے ہیں۔بھارت محدود ویزے دینے کے باوجود رکاوٹیں کھڑی کرتا رہتاہے۔پاکستان نے بار بار انڈیا کے حکام کے سامنے مسلہ اٹھایا ہے اور معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیاہے۔ہمارا بھارت سے مطالبہ ہے کہ ویزوں کی تعداد کم سے کم دو ہزار کی جائے۔بھارت پاکستان بار بار مطالبہ کے باوجود مطالبہ پر توجہ نہیں دے رہا۔پاکستان سکھ اور ہندو یاتریوں کو قیام وطعام سمیت تمام سہولیات بلامعاوضہ فراہم کرتاہے،دنیا بھر میں کرایہ اور دیگر اشیاء کی مد میں رقم وصول کی جاتی ہے۔پنجہ صاحب حسن ابدال میں 90 کروڑ روپے سے سکھ یاتریوں کے لئے کمرے بنائے جارہے ہیں۔















