سکھر(اے بی این نیوز) سکھر کے سائٹ ایریا میں غیر قانونی سگریٹوں کی پیکنگ میں ملوث ایک گودام پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں غیر قانونی سگریٹ اور پیکنگ مشینری برآمد کر لی گئی۔ ذرائع کے مطابق کارروائی حساس اداروں کی خفیہ اطلاعات پر ایف بی آر اور پولیس نے مشترکہ طور پر کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گودام میں مختلف مقامی برانڈز کے سگریٹوں کی پیکنگ کے لیے مشینری نصب کی گئی تھی، جہاں غیر قانونی سگریٹ پیک کیے جا رہے تھے۔ کارروائی کے دوران لارڈ، ملبورن اور سینٹر سمیت مختلف برانڈز کے سگریٹوں کی بڑی کھیپ قبضے میں لے لی گئی، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کروڑ 87 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والے مذکورہ سگریٹ برانڈز میں بعض مبینہ طور پر سووینئر ٹوبیکو کمپنی کے رجسٹرڈ برانڈز ہیں۔ جبکہ سووینئر ٹوبیکو کمپنی کا تعلق خیبر پختون خواہ سے وابستہ ایک معروف سینیٹر سے ہے، جن کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے بتایا جاتا ہے۔
اے بی این انویسٹیگیشن سیل کی تحقیق میں غیر قانونی سگریٹ سازی کے حوالے سے ایک نئے طریقہ واردات کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس حکام کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے غیر قانونی سگریٹوں کی تیاری کے مختلف مراحل کو الگ الگ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اے بی این انویسٹیگیشن سیل کی تحقیق کے مطابق سگریٹوں کی تیاری ایک مقام پر کی جاتی ہے، جبکہ ان کی پیکنگ کسی دوسری جگہ پر مکمل کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ کارروائیوں سے بچنے کے لیے مشینری بھی تقریباً ہر ماہ ایک نئی جگہ منتقل کر دی جاتی ہے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔
اے بی این انویسٹیگیشن سیل کی تحقیق کے مطابق خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بعض گروپوں نے اپنی مشینری اور سرگرمیاں سندھ منتقل کر دی ہیں۔ اور سندھ اس وقت غیر قانونی سگریٹوں کی تیاری کے حوالے سے اہم ترین مرکز بنتا جا رہا ہے۔
ماضی میں بھی سندھ میں قائم متعدد غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ بعض مبینہ نیٹ ورکس کے حوالے سے کئی اہم سیاسی شخصیات کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکام نے برآمد ہونے والے سگریٹوں کی سپلائی اور پیکنگ کے مکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تحقیقات میں گودام کے مالک، غیر قانونی سگریٹوں کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے گودام اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جائے گی۔
حکام اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ برآمد شدہ سگریٹ کہاں تیار کیے گئے، ان کی پیکنگ کس نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی تھی اور انہیں مارکیٹ تک پہنچانے میں کون سے عناصر ملوث تھے۔
غیر قانونی سگریٹوں کے خلاف اس کارروائی کو سندھ میں سرگرم مبینہ غیر قانونی سگریٹ نیٹ ورکس کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں: فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنے کی پابندی غیر قانونی قرار















