بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سیاسی وابستگیوں اور ہر قسم کے امتیاز سے بالاتر رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ یہ ادارہ ملک کے غریب اور مستحق خاندانوں کی معاونت کے لیے کام کر رہا ہے، اس لیے اسے سیاسی بحث اور تضحیک کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
اسلام آباد میں بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سیاست سے الگ رکھیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کی عزتِ نفس کا احترام کریں۔
چیئرپرسن کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ 2 لاکھ خاندان اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خاندانوں میں محنت کش اور مستحق افراد شامل ہیں، جن کے لیے حکومتی مالی معاونت مشکل معاشی حالات میں اضافی سہارا فراہم کرتی ہے، تاہم یہ رقم ان کے مکمل معاشی اخراجات کا متبادل نہیں ہے۔
روبینہ خالد نے کہا کہ مستحق افراد کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور تکلیف دہ تبصروں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام مذہب، مسلک، ذات، برادری، زبان، علاقے، رنگ و نسل اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مستحق شہریوں کی مدد کرتا ہے۔
انہوں نے سیاسی اور سماجی حلقوں سے اپیل کی کہ پروگرام کو پروپیگنڈے اور تضحیک آمیز بیانات کا حصہ نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے اس سے وابستہ خاندانوں کی عزتِ نفس متاثر ہوتی ہے۔
چیئرپرسن نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی محض مالی امداد کا پروگرام نہیں بلکہ قومی معیشت اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ادارہ شفاف نظام کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا ہر سال آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ذریعے آڈٹ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام نے چھ شراکت دار بینکوں کے تعاون سے انٹرآپریبلٹی نظام کے تحت ایک کروڑ ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کھول دیے ہیں۔ اس سہولت کے ذریعے خواتین کسی ایک بینک تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ملک بھر میں شراکت دار بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے اپنی سہولت کے مطابق رقم وصول کرسکیں گی۔















