اہم خبریں

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی کا امکان بڑھ گیا

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ایران کے ساتھ کشیدگی کم ہونے اور جنگ کے خاتمے کی امیدیں ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد ایران کے ساتھ مصالحت اور جنگ کے خاتمے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی دیکھی گئی، جبکہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی رسد سے متعلق خدشات پر مرکوز ہے۔

تازہ کاروباری سیشن میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران جنوری کے لیے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 26 سینٹ یعنی 0.3 فیصد اضافے کے بعد 98.55 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں 57 سینٹ یعنی 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 91.09 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے امکان کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں کا انحصار سیاسی صورتحال، جنگی کشیدگی اور تیل کی رسد پر رہے گا۔ عالمی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں پر بھی پڑ سکتا ہے، لیکن مقامی قیمتوں میں تبدیلی کا فیصلہ حکومتی جائزے اور سرکاری اعلان کے بعد ہی ہوگا۔

متعلقہ خبریں