لاہور(اے بی این نیوز) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب بھر میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 221 صنعتی یونٹس اور 354 اینٹوں کے بھٹوں کی انسپیکشن کی گئی، خلاف ورزیوں پر 7 صنعتی یونٹس اور 4 بھٹے سیل جبکہ ایک صنعتی یونٹ اور ایک بھٹہ مسمار کر دیا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات کی کارروائیوں کے دوران صنعتی یونٹس پر 3 لاکھ 10 ہزار روپے اور اینٹوں کے بھٹوں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر ایک بھٹے کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
پنجاب حکومت کے مطابق غیر معیاری پلاسٹک کے استعمال اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 169 مقامات کی انسپیکشن کی گئی، 3 مقامات سیل کیے گئے اور 317 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا۔
کمرشل کچنز اور باربی کیو پوائنٹس سے دھوئیں کے اخراج کو روکنے کے لیے 131 مقامات کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 78 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کیے گئے، ان ہڈز کی تنصیب کے ساتھ ان کی مؤثر فعالیت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ڈرون سکواڈ، نائٹ سکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ سکواڈ کے ذریعے نگرانی جاری ہے، جبکہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے، مقامی سطح پر فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے سموگ گنز چلانے اور پانی کے چھڑکاؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دوسری جانب 24 اکتوبر کو لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 172 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 6 کلومیٹر فی گھنٹہ اور رخ مشرق جنوب مشرقی بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ہوا کی رفتار میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر فضائی آلودگی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور موسمی حالات کے مطابق انسدادِ سموگ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف پیشگی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور آلودگی کے مقامی ذرائع کی نشاندہی اور روک تھام حکومت کی اولین ترجیح ہے، ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد اور شہریوں کو صاف فضا فراہم کرنے کے لیے فیلڈ ٹیمیں متحرک ہیں۔
انہوں نے کسانوں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ انسدادِ سموگ مہم میں عملی تعاون کریں، کیونکہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔
مزیدپڑھیں: پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں ، ملازم کا قانونی حق ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ















