اسلام آباد: قیصر احمد شیخ کو کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کی سربراہی سے الگ کر دیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر تجارت کو کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔ مشیر صنعت و پیداوار ہارون اختر کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ اب کمیٹی کے چیئرمین نہیں رہے اور نئی تشکیل شدہ کمیٹی کے ارکان میں بھی ان کا نام شامل نہیں ہے۔ اس سے قبل وہ اس کمیٹی کی سربراہی کر رہے تھے۔
کمیٹی میں کون کون شامل ہوگا؟
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزیر مملکت برائے خزانہ اور ریلوے سے متعلقہ وزیر بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ڈویژن کمیٹی کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گا۔
ریگولیٹری اصلاحات کمیٹی کے اختیارات کیا ہوں گے؟
کمیٹی کے لیے قواعد و ضوابط اور اختیارات بھی طے کر دیے گئے ہیں۔ ان کے تحت کمیٹی آسان کاروبار قانون پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا جائزہ لے گی اور متعلقہ تجاویز کی منظوری دے گی۔
اس کے علاوہ سرمایہ کاری بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں موجودہ قوانین، ضوابط اور لائسنسوں کو ختم کرنے یا ان میں ترمیم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور لائی جائیں گی۔ کمیٹی کی منظور کردہ سفارشات حتمی توثیق کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوائی جائیں گی۔
کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پر توجہ
کمیٹی مجموعی اصلاحاتی عمل سے متعلق پالیسی فیصلوں، اصلاحات پر تیز رفتار عمل درآمد اور آسان کاروبار منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی بھی کرے گی۔ اس کے ساتھ مقررہ اہداف کی بروقت تکمیل اور قانونی رجسٹری کے قیام اور اسے فعال بنانے کا عمل یقینی بنانا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔
حکومت کے اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں میں سہولت پیدا کرنا، غیر ضروری قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کا جائزہ لینا اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ کمیٹی کی تشکیل نو کے بعد ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق فیصلوں اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت کی جائے گی۔















