اہم خبریں

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 22 لاکھ 59 ہزار افراد خارج

اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مستفیدین کی جانچ پڑتال کے دوران اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ایک سال کے دوران 22 لاکھ 59 ہزار 404 افراد کو پروگرام سے خارج کیا گیا، جبکہ 8 لاکھ سے زائد افراد کی ادائیگیاں بھی روک دی گئیں۔ وزارتِ تخفیفِ غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پیش کردہ معلومات میں یہ اعداد و شمار سامنے آئے۔

تفصیلات کے مطابق یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے خارج کیے گئے افراد کو فراہم کردہ معلومات میں جعلی مستفیدین قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ان افراد کی الگ الگ وجوہات اور ان کی درجہ بندی کی مکمل تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔

سرکاری ملازمین کی شمولیت کا بھی انکشاف
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس معاملے نے امدادی رقوم کی تقسیم اور مستحق افراد کی شناخت کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔

712 ملین روپے سے زائد کی وصولی
وزارت کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے جعلی اور غیر مستحق مستفیدین سے اب تک 712 ملین روپے سے زائد رقم واپس وصول کی جا چکی ہے۔ اس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے 545 ملین روپے سے زائد رقم جبکہ بی آئی ایس پی کے ملازمین سے 21 ملین روپے سے زائد کی وصولی شامل ہے۔

غیر مجاز کٹوتیوں اور غبن سے متعلق ہزاروں شکایات
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران فنڈز میں غیر مجاز کٹوتی، غبن اور رقوم کے غلط اجرا سے متعلق مجموعی طور پر 55 ہزار 579 شکایات موصول ہوئیں۔ وزارت کے مطابق ان شکایات پر انکوائری اور متعلقہ قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا اہم حکومتی منصوبہ ہے۔ اس لیے مستحق افراد تک امدادی رقم کی شفاف تقسیم، غلط ادائیگیوں کی روک تھام اور شکایات پر بروقت کارروائی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومتی تفصیلات کے مطابق پروگرام میں مستفیدین کی جانچ پڑتال اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق معاملات پر کارروائی جاری ہے۔

متعلقہ خبریں