اہم خبریں

سندھ حکومت کا گندم سبسڈی اسکیم شروع کرنے کا اعلان

سندھ حکومت نے گندم کے کاشتکاروں اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے مالی سال 2026-27 کی نئی سبسڈی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ گندم سبسڈی اسکیم کے تحت 15 اکتوبر سے فلار ملز کو رعایتی نرخوں پر گندم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے میں مدد دینا ہے۔

محکمہ زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز سندھ کے مطابق صوبے بھر میں متعلقہ دفاتر آئندہ 90 روز تک ہفتے کے روز بھی کھلے رہیں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق 10 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔ سندھ سیکریٹریٹ سمیت صوبے کے فیلڈ دفاتر کے افسران اور ملازمین کو ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔

15 اکتوبر سے فلار ملز کو رعایتی گندم

رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے فلار ملز کو 15 اکتوبر سے رعایتی گندم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو مقرر کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس اقدام کا مقصد آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پریشان شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

کراچی سمیت مختلف علاقوں میں آٹا مہنگا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ بھر، خصوصاً کراچی میں فلار ملز مالکان کی جانب سے آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1900 روپے تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔

آٹا روزمرہ خوراک کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ رعایتی گندم کی فراہمی سے آٹے کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم صارفین کو حقیقی ریلیف ملنے کا انحصار اس اسکیم پر عمل درآمد اور مارکیٹ میں قیمتوں پر بھی ہوگا۔

سندھ کے سرکاری گندم ذخائر کی تفصیلات

دستیاب معلومات کے مطابق سندھ کے سرکاری ذخائر میں اس وقت 3 لاکھ 46 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ پاسکو اور درآمدی گندم کی آمد کے بعد مجموعی ذخیرہ 8 لاکھ 36 ہزار 414 میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے رعایتی گندم کی فراہمی اور دفاتر کے اوقات سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد آئندہ دنوں میں اہم ہوگا۔ شہریوں کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ نئی اسکیم کے بعد آٹے کی قیمتوں میں کمی آتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں