اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاجی ریلیوں کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی اور اٹک میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 8 ڈی آئی جیز کی نگرانی میں 22 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے اہم ضلع اٹک میں تقریباً 30 ہزار اہلکار تعینات کیے جانے کی تیاری ہے۔
اٹک میں اضافی نفری کی آمد شروع ہوچکی ہے اور اہلکار ضلعی پولیس افسر کو رپورٹ کر رہے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی فورس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری، رائٹ مینجمنٹ پولیس اور دیگر یونٹس کو بھی اٹک میں تعینات کیا جائے گا۔
راولپنڈی پولیس نے بھی احتجاج کے دوران مقامی پولیس کی معاونت کے لیے 9 ہزار اضافی اہلکار طلب کیے ہیں۔ دوسری جانب ممکنہ احتجاجی ریلیوں کو جڑواں شہروں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں کنٹینرز تحویل میں لیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 30 داخلی راستے، جن میں راولپنڈی کے 11 راستے شامل ہیں، بند کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی ہے، جبکہ تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ کسان اتحاد نے بھی کسانوں کے لیے ریلیف کے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تعینات ہونے والی اضافی نفری کی نگرانی 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز، 40 ایس پیز اور 58 ڈی ایس پیز کریں گے۔ اضافی پولیس افسران اور اہلکاروں کی رہائش کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ادھر راولپنڈی ضلع میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر یکم اکتوبر تک پابندی عائد کی گئی ہے۔ سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیر اکی جانب سے جاری حکم کے مطابق انتہائی ہنگامی صورتحال کے علاوہ اتفاقی اور واجب الادا چھٹیاں بھی یکم اکتوبر تک نہیں دی جائیں گی۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے باہر سے بلائے گئے پولیس افسران اور اہلکاروں کی رہائش کے لیے مختلف مقامات پر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 13 ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں 132 کمرے مختص کیے گئے ہیں، جہاں مجموعی طور پر 362 پولیس افسران اور اہلکاروں کو ٹھہرایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں سے اسلام آباد بلائے جانے والے پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی رہائش کے لیے سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، اسپورٹس کمپلیکس، شادی ہالز اور پولیس اسٹیشنز کو بھی استعمال کیا جائے گا۔ احتجاج اور مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کے بعض سرکاری تعلیمی اداروں کو اضافی فورس کی رہائش کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں:انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات، پشاور بورڈ کے نتائج کا اعلان سامنے آگیا















