لاہور(اے بی این نیوز)سابق کپتان مصباح الحق نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا چناؤ کرنے کی ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل کھلاڑیوں کی سلیکشن کے معاملے پر اختلافات کے بعد عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ بھیجے جانے والے کھلاڑیوں کے حوالے سے مصباح الحق سے مشاورت نہیں کی گئی، جس پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھجوایا۔
مصباح الحق اس سے قبل قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں اور حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کے انتخاب کے عمل کا حصہ تھے۔
پی سی بی نے تاحال مصباح الحق کے استعفے کے حوالے سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
مصباح کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری میچ سے قبل قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں 7 تبدیلیاں کی ہیں۔ انگلینڈ پہلے ہی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرچکا ہے۔
سیریز کے دوران ٹیسٹ اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر موجودہ اور سابق کرکٹرز نے بھی شدید تنقید کی ہے۔
سابق کپتان شاہد آفریدی نے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی20 کھلاڑیوں کو کیوں شامل کیا گیا اور ہیڈ کوچ کو صرف پانچ ٹیسٹ میچوں کے بعد کیوں ہٹایا گیا۔
بھارتی کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے بھی تبدیلیوں کے وقت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سلمان علی آغا نے پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کی، دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ ہوئے اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل وطن واپس بھیج دیے گئے، جبکہ ہیڈ کوچ، باؤلنگ کوچ اور سینئر وکٹ کیپر بھی سیریز کے دوران ٹیم سے الگ ہوگئے۔
سابق پاکستانی کوچ مکی آرتھر نے تبدیلیوں کو ‘انتہائی مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز میں مسلسل تبدیلیاں ہی پاکستان کرکٹ کے انتشار کی بڑی وجہ ہیں۔
سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بھی پاکستان کرکٹ میں زوال کی وجہ فیصلہ سازی کے عمل کو قرار دیتے ہوئے موجودہ نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پی سی بی نے اسکواڈ سے باہر کیے گئے کھلاڑیوں کی جگہ 5 ایسے کرکٹرز کو شامل کیا ہے جنہوں نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا، جبکہ 2 کھلاڑی محدود ٹیسٹ تجربہ رکھتے ہیں۔
برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے شروع ہوگا، جس کے لیے مائیک ہیسن کو ہیڈ کوچ جبکہ ایشلے نوفکے کو باؤلنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونا مزید سستا ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟















