اسلام آباد (اے بی این نیوز) پمز اسپتال میں نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر متاثرہ والدین نے انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ نرسری میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسری کو لاک کرکے عملہ کیوں گیا، جبکہ مبینہ طور پر ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر اسٹاف میں سے کسی کو خراش تک نہیں آئی۔
متاثرہ والدہ نے الزام عائد کیا کہ بچوں کو غائب کیا گیا یا انہیں آگ میں جلایا گیا، جبکہ ریسکیو ٹیم اور پولیس کے پہنچنے میں بھی تاخیر ہوئی۔ ان کے مطابق انتظامیہ کے بعض افسران موقع کا دورہ کرکے واپس چلے گئے، جبکہ اسپتال کے عملے کے حوالے سے بھی انہوں نے مختلف شکایات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب پمز انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں متعدد نومولود جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک نومولود اور کئی افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور آتشزدگی کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی اور حتمی رپورٹ کے بعد آگ لگنے کی اصل وجہ واضح ہوگی۔
مزید پڑھیں: قومی ویمن فاسٹ بائولر ایمن انور کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کااعلان















