نیویارک (اے بی این نیوز) ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 37 سینٹ (0.5 فیصد) کمی کے بعد 79.08 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 53 سینٹ (0.7 فیصد) گر کر 74.69 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
ماہر اقتصادیات یوکی تاکاشیما کے مطابق ایران اور عمان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھا۔ ان کے بقول تیل کی قیمتیں اب تقریباً اسی سطح پر واپس آ گئی ہیں جہاں 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ سرمایہ کار اب حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی نگرانی میں کردار دیا جا سکتا ہے، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ وہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ پر ایران کے مکمل کنٹرول کی حمایت نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر دوبارہ امریکی حملہ ہوا تو خطے کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی آئل ٹینکروں پر میزائل حملے کیے ہیں، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر میں کشیدگی اور حوثی حملوں کے خدشات کے باعث عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس سے آئندہ دنوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
دریں اثنا امریکی محکمہ توانائی نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 25 لاکھ بیرل اضافے کے بعد 407 ملین بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ مارکیٹ کو 15 لاکھ بیرل کمی کی توقع تھی۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی وجہ ریفائنریوں میں خام تیل کی پراسیسنگ میں معمولی کمی اور درآمدات میں اضافہ ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز، انگلینڈ کی 16 رکنی ٹیم کا اعلان















