اہم خبریں

اسمگلنگ کی خبر نشر کرنے پر اے بی این نیوز پر دباؤ؟ زمان مغل کا بڑا بیان

اسمگلنگ کی خبر نشر کرنے پر اے بی این نیوز پر دباؤ؟ زمان مغل کا بڑا بیان

اسلام آباد (اے بی این نیوز) اے بی این نیوز کے بیورو چیف زمان مغل نے کہا ہے کہ اگر میری گرفتاری مطلوب ہے تو میں یہاں موجود ہوں، سامنے سے گرفتار کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹی وی چینل اور میرے بارے میں قائمہ کمیٹی میں دیے گئے ریمارکس انتہائی نامناسب ہیں۔

زمان مغل کا کہنا تھا کہ خبر ہم نے میرٹ پر دی، خبر سے متعلق تمام شواہد اور دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں۔ اگر کسی کو خبر پر اعتراض ہے تو متعلقہ فورم پر ثبوتوں کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے تمام سینیٹرز اور ارکان ہمارے لیے قابل احترام ہیں، کسی سے ذاتی دشمنی نہیں۔ منتخب نمائندے کسی بھی جماعت یا حلقے سے ہوں، ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔

زمان مغل نے کہا کہ صحافی کا کام خبر دینا ہے اور ہم شواہد اور دستاویزات کے ساتھ خبر دیتے ہیں۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی کمیٹی نے ٹی وی چینل کا لائسنس منسوخ کرنے، کسی کو اٹھانے یا موبائل فون چھیننے کی بات کی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحافتی ادارے کو دباؤ میں لانے یا عملے کو ہراساں کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں۔ اگر ہماری خبر کسی فورم پر غلط ثابت ہوتی ہے تو ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب اے بی این نیوز کے سی ای او شمس کیانی نے کہا کہ چوری اور اسمگلنگ کے معاملے پر خبر نشر کرنے کے بعد چینل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ خبر کے بعد چینل انتظامیہ اور متعلقہ افراد کو دباؤ اور مبینہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

شمس کیانی کے مطابق نیوز کے سی ای او اور دیگر ذمہ داران کو مبینہ طور پر اٹھانے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ بیورو چیف اور دیگر صحافتی عملے کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صحافتی ادارے پر دباؤ ڈال کر خبر واپس لینے یا مؤقف تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافتی آزادی اور اظہارِ رائے کے حق پر دباؤ ناقابل قبول ہے، متعلقہ حکام صحافتی ادارے اور اس کے عملے کو مبینہ دھمکیوں کا نوٹس لیں۔

شمس کیانی نے کہا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے احترام کے ساتھ صحافیوں کو ہراساں کرنے یا اٹھانے کی دھمکیاں تشویشناک ہیں۔ جس سینیٹر کا اس معاملے میں براہِ راست تعلق ہے، وہی مدعی، جج اور جیوری بننے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قائمہ کمیٹی میں ایک ہی شخص کا مدعی اور منصف بن جانا بھی قابل تشویش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، ہم بھی ٹیکس چوری کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ٹیکس چوری اور نان کسٹمز پیڈ نیٹ ورک کے خلاف خبر نشر کرنے پر میڈیا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ہمارے بیورو چیف کو اٹھانے اور صحافتی عملے کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیں‌:قومی کرکٹرز کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات جاری کرنے کا حکم معطل

متعلقہ خبریں