نیو دہلی(اے بی این نیوز)بھارتی جین زی کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کامیاب ہو گیا، بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا جسے وزیرِ اعظم نے منظور بھی کر لیا۔
بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ دینے اور مودی کی جانب سے اسے منظور کرنے کی بھارتی میڈیا نے تصدیق کی ہے۔
ترجمان کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ ہمارے تمام مطالبات باضابطہ تحریری طور پر تسلیم کرلیے گئے ہیں، ہم گھر چلے جائیں گے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے کا اس حوالے سے اپنے ردِ عمل میں کہنا ہے اگر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، البتہ تاحال حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کہنا تھا کہ اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، تاہم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے، ہم نے کر دکھایا ہے۔
واضح رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریباً 2 ماہ قبل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج شروع کیا گیا تھا، جس میں شعبۂ تعلیم کے حوالے سے معروف بھارتی شخصیت سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
بھارتی جین زی نے وزیرِ تعلیم پر دھرمند پردھان پر مبینہ طور پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت کے مختلف شہروں میں وزیرِ تعلیم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری تھا، دہلی کے علاقے جنتر منتر میں ہزاروں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے پرتشدد کارروائی بھی کی تھی۔
پارلیمنٹ کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے، پولیس کے مطابق 178 اہلکار زخمی اور 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا بھی استعمال کیا تھا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے گزشتہ روز حکومت سے مذاکرات ہوئے تھے،کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کے مطابق ان کے 2 مطالبات کل اصولی طور پر منظور کیے گئے تھے، پارٹی کا پہلا مطالبہ وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کا استعفیٰ تھا، جو آج مستعفی ہو گئے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں میں متعدد بھارتی اہم شخصیات، اداکاروں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی تھی اور ان کے مطالبات کی حمایت کی تھی۔
اس سے پہلے تازہ ترین بیان میں کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے آج دوپہر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے آج سہ پہر ساڑھے 3 بجے سے 4 بجے تک کا وقت دیا ہے اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کے معاملے پر واضح طور پر ہاں یا ناں میں جواب دینا ہو گا۔
گزشتہ روز حکومت سے مذاکرات کے بعد طلبہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر وزیرِ تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔
آشوتوش رنکا نے سونم وانگچک کے خلاف سوشل میڈیا مہم کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 26 روز تک بھوک ہڑتال کرنے والے شخص کو نشانہ بنانا افسوس ناک ہے۔
بھارتی حکومت زبانی طور پر طلبہ کے جو مطالبات تسلیم کر چکی تھی ان میں سے ایک 20 جولائی کے مظاہرے کے بعد پولیس کی طرف سے طلبہ کے خلاف درج مقدمات کی واپسی جبکہ دوسرا امتحانی نظام میں خرابی کی وجہ سے خودکشی کرنے والے 20 سے زائد طلبہ کے لواحقین کو 1، 1 کروڑ روپے کے ہرجانے کی ادائیگی بھی تھا۔
مزید پڑھیں: پیٹرول پر108 روپے 67 پیسے،ڈیزل پر96 روپے 86 پیسے ٹیکسز اور مارجنز وصول















