کراچی( اے بی این نیوز)محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) کے جدید نظام اور ملازمین کی تعلیمی اسناد کی جانچ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد محکمہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 15 ہزار اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ نے سرکاری اسکولوں میں شفافیت، احتساب اور ملازمین کی سو فیصد حاضری یقینی بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی حاضری کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے چہرے کی شناخت کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد بوگس، غیر حاضر اور غیر فعال ملازمین کی نشاندہی کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم نے 1989ء سے 2020ء کے دوران بھرتی ہونے والے تمام ملازمین کی تعلیمی اسناد کی باقاعدہ جانچ شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکرپٹنی کے دوران اگر کسی ملازم کی جعلی یا مشکوک ڈگری سامنے آئی تو اس کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق انہی سخت اقدامات کے باعث محکمہ تعلیم میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ اب تک 15 ہزار کے قریب اساتذہ اور دیگر ملازمین قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔
محکمہ تعلیم سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد سرکاری اسکولوں کے نظام کو سفارش، بدعنوانی اور بوگس ملازمین سے پاک کرنا، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
مزید پڑھیں:دبئی ایئرپورٹ کی امیگریشن سے متعلق اہم اعلان















