تہران (اے بی این نیوز) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے تیل کی سپلائی اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس خطے میں ایران تیل فروخت نہیں کرتا وہاں کوئی دوسرا ملک تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران کی سلامتی کو یقینی نہ بنایا گیا تو خطے کا کوئی بھی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اس وقت امریکی افواج کی موجودگی کے بغیر برقرار ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی آبی گزرگاہوں کی حفاظت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال اب جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی اور خطے میں سلامتی، توانائی اور بحری نقل و حمل کے حوالے سے نئے حقائق سامنے آئے ہیں۔
باقر قالیباف کے بیان کو ایک ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈیوں پر غیر یقینی کی صورتحال چھائی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے یا آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر توانائی کی عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ،عوام کے لیے اہم خبر















