واشنگٹن (اے بی این نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل تیسری رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں۔
سینٹکام کے جاری بیان کے مطابق حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کے لیے ممکنہ خطرات کو ختم کرنا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ایران کی ان صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں خطے میں بحری تجارت کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے ساحلی شہر بندرعباس میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے حملوں کے نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایران کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو دی گئی مفاہمتی یادداشت ایک امتحان تھی، لیکن تہران نے اس کی پاسداری نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا وسطی ایران کے کوہ کولانگ گاز لا کے علاقے کو بھی نشانہ بنانے جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ قریبی رابطوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور باہمی تعلقات انتہائی خوشگوار ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے تو اس کا اصل حق دار ایران ہے، کیونکہ یہی ملک اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی صدر کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے 20 فیصد شرح کا ذکر کیا گیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ شرح غیرمنصفانہ اور بہت زیادہ ہے، جبکہ ایران اس معاملے میں منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں:مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی نئی رپورٹ سامنے آگئی















