اہم خبریں

آزاد کشمیر مہاجر نشستیں کیس پر سپریم کورٹ کا اہم حکم

مظفرآباد: آزاد کشمیر مہاجر نشستیں سے متعلق دائر آئینی ریفرنس پر سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی حساسیت اور آئینی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف سیاسی، قانونی اور عوامی حلقوں سے رائے طلب کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے آئینی اور قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ ریاست کے آئینی ڈھانچے، انتخابی نظام اور مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کی آراء حاصل کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے قائد ایوان، قائد حزب اختلاف، قانون ساز اسمبلی کے تمام اراکین، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سینئر وکلا، سپریم کورٹ بار اور ہائی کورٹ بار کے صدور سمیت عوام کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

حکومت کی جانب سے دائر ریفرنس میں 12 مخصوص مہاجر نشستوں کے آئینی اور قانونی مستقبل سے متعلق پانچ بنیادی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ریفرنس میں استفسار کیا گیا ہے کہ آیا یہ نشستیں آئین کے تحت مکمل تحفظ رکھتی ہیں اور کیا ان میں کسی قسم کی تبدیلی صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

حکومت نے عدالت سے یہ رہنمائی بھی طلب کی ہے کہ آیا احتجاج، دھرنوں، عوامی دباؤ یا سڑکوں کی بندش کی دھمکیوں کے ذریعے ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی طور پر جائز قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ریفرنس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ موجودہ قانون ساز اسمبلی، جس کی آئینی مدت اختتام کے قریب ہے، کیا اتنی بڑی آئینی تبدیلی کرنے کی مجاز ہے یا یہ فیصلہ نئی منتخب اسمبلی کو کرنا چاہیے جس کے پاس تازہ عوامی مینڈیٹ ہوگا۔

حکومت کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ ان میں کشمیر ویلی، جموں خطے اور منگلا ڈیم متاثرین کی نمائندگی شامل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں صرف انتخابی بندوبست نہیں بلکہ دو ملین سے زائد مہاجرین کی سیاسی شناخت اور نمائندگی کی علامت ہیں۔

عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو اپنی تحریری آراء جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی ہے۔ آزاد کشمیر مہاجر نشستیں کا یہ معاملہ آئندہ انتخابات اور ریاستی سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں