اہم خبریں

پاکستان کا تجارتی خسارہ 11 ماہ میں 17.5 فیصد بڑھ گیا

پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران نمایاں اضافے کے بعد 34.76 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی کے باعث ملکی تجارتی توازن مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

جولائی سے مئی 2026 تک کے عرصے میں پاکستان کی مجموعی درآمدات 62.66 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.94 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس برآمدات میں 5.61 فیصد کمی دیکھی گئی اور مجموعی برآمدی آمدن 27.90 ارب ڈالر رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی 2026 میں تجارتی خسارہ 2.58 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران برآمدات 2.70 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 5.28 ارب ڈالر رہیں۔

اگرچہ ماہانہ بنیادوں پر کچھ مثبت اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ اپریل کے مقابلے میں مئی کے دوران برآمدات میں 9.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بیرونی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں بہتری کا عندیہ دیتا ہے۔ دوسری جانب درآمدات میں 21.45 فیصد کمی دیکھی گئی، جس سے ماہانہ تجارتی خسارے میں کچھ حد تک کمی آئی۔

سالانہ بنیادوں پر مئی 2026 میں برآمدات میں 1.26 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 6.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مجموعی طور پر پاکستان کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق برآمدات میں پائیدار اضافہ اور درآمدی اخراجات میں کمی کے بغیر تجارتی خسارے پر قابو پانا مشکل ہوگا، جس کے لیے مؤثر معاشی پالیسیوں اور صنعتی ترقی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں