کھاد سبسڈی کے تحت وفاقی حکومت کسانوں کو ممکنہ قیمتوں میں اضافے سے بچانے اور کھاد کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکج پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کھاد ساز کمپنیوں کو گیس کی قیمتوں کے بقایاجات کی ادائیگی میں سہولت دینے کے لیے 20 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مالی معاونت کھاد صنعت کو درپیش مالی دباؤ کم کرنے میں مدد دے گی، جس کی ایک بڑی وجہ گیس ٹیرف سے متعلق جاری تنازعات ہیں۔ مجوزہ سبسڈی کے ذریعے کھاد فیکٹریاں اپنی پیداوار بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں گی، جس سے یوریا اور دیگر زرعی کھادوں کی مارکیٹ میں دستیابی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
حکومتی حلقوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف کھاد کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا نہیں بلکہ زرعی شعبے کو درپیش طویل المدتی مسائل کا حل تلاش کرنا بھی ہے۔ اسی سلسلے میں توانائی اور کھاد کے شعبوں میں مختلف اصلاحات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے تاکہ ان شعبوں کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کھاد سبسڈی منصوبے کے تحت گیس قیمتوں کے فرق کی ادائیگی سے گیس فراہم کرنے والے ادارے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کو بھی مالی وصولیوں میں سہولت ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد حاصل ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے کھاد کی قیمتوں میں استحکام اور بروقت دستیابی خوراک کی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔















