اہم خبریں

انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر کسٹمز افسران کی بدعنوانی کے حیران کن انکشافات

پاکستان کے مختلف انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر تعینات کسٹمز اہلکاروں کی کرپشن سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں متعدد افسران کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اسمگلنگ میں سہولت کاری جیسے سنگین الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 24 اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات کی گئیں، جن میں زیادہ تر گریڈ 16 اور گریڈ 17 کے افسران شامل ہیں۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ فیصل آباد ایئرپورٹ پر تعینات گریڈ 16 کے کسٹمز انسپکٹر محمد عبداللہ قیمتی الیکٹرک آلات کی اسمگلنگ میں سہولت کاری کرتے پائے گئے۔

اسی طرح ایک اور انسپکٹر فیضان احمد پر سات قیمتی ضبط شدہ موبائل فونز غائب کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گریڈ 17 کے افسر فضل کریم تقریباً 97 لاکھ روپے مالیت کے ٹیکس اور ڈیوٹی کی وصولی یقینی بنانے میں ناکام رہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بعض اہلکار بغیر تصدیق شدہ دستاویزات کے سامان کلیئر کرنے اور غیر قانونی سامان جہاز پر لوڈ کروانے میں بھی ملوث رہے۔ ایک کیس میں سیکریٹری ریونیو ڈویژن نے برطرفی کی سزا کو نرم کرتے ہوئے صرف تنخواہ میں اضافے پر پابندی کی سزا میں تبدیل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق گریڈ 16 کے افسر انس بٹ کے خلاف ایک چینی شہری سے مبینہ رشوت طلب کرنے کے الزام پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ دو گریڈ 17 افسران کے خلاف انکوائری مکمل ہو چکی ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسٹمز اہلکاروں کی کرپشن روکنے کے لیے نگرانی کا نظام مزید سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ایئرپورٹس پر شفافیت اور قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔

متعلقہ خبریں