اسلام آباد(اے بی این نیوز)پاکستان کے پانڈا بانڈ نے نئی تاریخ رقم کردی،دنیا میں کسی ملک کےامیج کو جاننا ہوتو فائنانشل مارکیٹس کی کسوٹی سےاچھا پیمانہ کوئی دوسرا نہیں ہوتا،پاکستان کو جب جب اسکی ضرورت قرض کی عالمی منڈی میں لیکر گئی تو ہر بارعالمی سرمایہ کاروں نے اپنی شرائط پر قرض فراہمی کے معاہدے کئے لیکن اس بار یہ روایت بدل چکی ہے۔
عالمی سطح پرپاکستان کے تبدیل ہوتے امیج نےعالمی سرمایہ کاروں کے رویےبھی تبدیل کر دیئے ہیں، پاکستان کی جانب سےدنیا کی دوسری سب سے بڑی آف شور کیپٹل مارکیٹ میں اس بار ایسا کچھ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔
پاکستان نے پہلی بار چائنیز کرنسی میں عالمی سرمایہ کاروں کو پانڈا بانڈز فروخت کرنے کی پیشکش کی جس پر ایسا رسپانس آیا جو خود وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کیلئے بھی غیر متوقع تھا،عالمی سرمایہ کاروں نے آئی ایم ایف کی قسط کے برابر قرض آئی ایم ایف سے سستے مارک اپ پر پاکستان کو فراہم کرنے کی پیشکشں کیں۔
پاکستان کو توقع سےبھی زیادہ اچھا اورتاریخی رسپانس ملا،جس نےمستقبل میں انٹرنیشنل بانڈ مارکیٹ سے سستے اور آسان نئے قرضوں کی راہ ہموار کردی،پاکستان نے پہلے مرحلے میں پانڈا بانڈز فروخت کرکے پونے دو ارب یوآن جس کی امریکی ڈالرمیں مالیت 25 کروڑ ڈالر بنتی ہے قرض حاصل کرلیا جس پر شرح منافع یا مارک اپ صرف 2.5 فیصد سالانہ کے حساب سے پاکستان ادا کرے گا ۔۔ یہ اب تک پاکستان کے بانڈ مارکیٹ سے تاریخ کا سب سے سستا قرض اٹھانے کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔۔
عالمی سرمایہ کاروں نےپاکستان کو پانڈا بانڈز کے عوض 8.8 ارب یوآن اور امریکی ڈالر میں 1.26 ارب ڈالرکا قرض دینےکی پیشکشیں کیں۔۔ یہ بھی اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے کیونکہ راقم کو وفاقی وزیر خزانہ کےمشیر خرم شہزاد نےبتایا کہ پاکستان کو اتنی بڑی مالیت کاقرض اورتاریخ کےسب سے کم ترین مارک اپ پرملنے کی توقع خود پاکستانی حکام کو بھی نہیں تھی اور یہ ان کیلئے ایک سرپرائز تھا،کیونکہ پاکستانی حکام ساڑھے تین سے چار فیصد مارک اپ پر قرض ملنے کی توقع کر رہے تھے ۔۔
عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے پانڈا بانڈز خریدنے میں غیر معمولی دلچسپی کامظاہرہ کیا،تین سالہ سائوورن گارنٹی کےساتھ پانڈا بانڈ پر شرح سودڈھائی فیصد فکس ہوگی،حکومت پاکستان نےآئندہ دو سال میں پانڈا بانڈزکی مرحلہ وارفروخت سےایک ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنےکا ہدف رکھا ہے،جبکہ اگلے مرحلے کے پانڈا میں مزید کمپٹیشن کے ساتھ موجودہ فروخت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کو آئندہ موجودہ شرح سود سے بھی کم مارک اپ اور زیادہ مالیت کا قرض با آسانی مل سکے گا۔
یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان نے جتنا قرض عالمی سرمایہ کاروں سے مانگا وہ اس سے پانچ گنا زیادہ قرض حکومت کو دینے کیلئے تیار تھے ۔
مزید پڑھیں: اداکارہ حنا الطاف کا شوٹنگ کے دوران ہراسانی کا انکشاف















