اہم خبریں

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے حکومت نے اہم اعلان کر دیا

Ali Pervez Malik نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم لیوی Petrol ہے، جس میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیا گیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں فی لیٹر 80 روپے لیوی پر اتفاق کیا تھا، تاہم بعد میں یہ ہدف بڑھ کر 160 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی اور ایل پی جی کے ذخائر کی نگرانی کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کے باعث ملک میں ایندھن کا بحران پیدا نہیں ہوا۔وزیر پیٹرولیم کے مطابق Saudi Arabia، Qatar، Abu Dhabi اور Oman نے متبادل سپلائی روٹس کے ذریعے پاکستان کو توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے میں اہم تعاون کیا، جبکہ قطر سے ایل این جی سپلائی بھی بحال ہو چکی ہے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل پر پریمیم 50 ڈالر تک بڑھنے سے مقامی قیمتوں پر شدید دباؤ آیا۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 285 ڈالر فی بیرل جبکہ دبئی خام تیل 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

وجے کی ازدواجی زندگی بارے بڑی خبر آگئی،بچے لندن میں سنگیتا کی بھی تقریب میں عدم شرکت،جا نئے اندر کی کہانی

اجلاس کے دوران سینیٹر Saifullah Abro نے سوال اٹھایا کہ پرانے اسٹاک پر فوری قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اور آیا لیوی میں اضافے سے کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ کمیٹی ارکان نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں