اسلام آباد سے اغوا کے بعد قتل ہونے والے فرخ افضل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے قتل میں ملوث مبینہ اجرتی قاتلMurder Case سید علی کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ملزم سید علی نے اپنے ساتھی شیراز کی مدد سے فرخ افضل کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول کو اغوا کے بعد خیبر پختونخوا کے علاقے میں منتقل کیا گیا جہاں اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کیس کے مرکزی ملزم سیف اللہ اور ملزمہ ماہ نور شاہد کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق قتل کی منصوبہ بندی ماہ نور شاہد نے اپنے ساتھی سیف اللہ کے ساتھ مل کر کی تھی۔
یاد رہے کہ فرخ افضل کے قتل کا مقدمہ 5 مئی کو تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا، جبکہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اشتعال انگیزی پرفوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایرانی نائب وزیر خارجہ
ذرائع کے مطابق ملزمان کے درمیان تعلقات اور قتل کے محرکات سے متعلق مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے میں سہولت کاری کرنے والے دیگر افراد کی تلاش میں بھی مصروف ہیں۔















