اسلام آباد (اے بی این نیوز) اسلام آباد(اوصاف نیوز) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ (جی او پیٹرولیم) کے خلاف اسٹاک میں مبینہ تضاد، ٹیکس چوری اور قیمت کے فرق کے دعوے (پی ڈی سی) میکانزم کے غلط استعمال کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ انکوائری وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اس وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جو وزیر اعظم کی ہدایت پر آئل و گیس مارکیٹ سے منسلک مختلف کمپنیوں اور حکام کے خلاف جاری ہے۔ اس کارروائی میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) نے مصنوعی قلت پیدا کرنے اور قیمتوں میں اضافے کا جواز بنانے کے لیے طلب میں اضافے کے دوران جان بوجھ کر ایندھن کا ذخیرہ روکے رکھا۔
مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض کمپنیوں کی جانب سے 125 ارب روپے تک کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ کمپنیوں کو ادائیگیوں کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب قانونی پیشرفت کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے مئی 2026 کے اوائل میں مبینہ طور پر جی او پیٹرولیم کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری پر حکم امتناع جاری کیا ہے، جس کے باعث معاملہ عارضی طور پر عدالتی دائرہ کار میں چلا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث عوام میں بے چینی اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کا گلگت بلتستان کا دورہ، مختلف منصوبوں کا افتتاح کرینگے















